خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 174

خطبات طاہر جلدم 174 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء لِّلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ الهُ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكْرَ أُولُوا الْأَلْبَابِ (ابراہیم : ۴۵-۵۳) پھر فرمایا: یہ آیات کریمہ جن کی میں نے تلاوت کی ہے سورۃ ابراہیم کی آخری چند آیات ہیں۔اس خطبہ میں ان آیات کی تفصیل پیش کرنے کا تو موقع نہیں ہوگا اس لئے میں صرف ترجمہ پر اکتفا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ے گو نام نہیں لیا گیا لیکن آپ ہی مخاطب ہیں تو لوگوں کو اُس دن کے عذاب سے ڈرایا اُس دن سے ڈرا جس دن ایک عذاب آئے گا اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کئے ہیں وہ اپنے رب کے حضور یہ عرض کریں گے کہ اے ہمارے خدا اس مدت کو یا اس مقدر کو کچھ عرصہ کے لئے ٹال دے۔اس صورت میں أوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ ہم ضرور تیری دعوت کو قبول کریں گے اور دل کی پیروی کریں گے۔اَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھایا کرتے تھے کہ تمہارے لئے کوئی زوال نہیں ہے۔یہاں وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ الفاظ خاص طور پر قابل ذکر ہیں اگر چہ اس کی تفصیل کا تو وقت نہیں لیکن اس آیت کے ان الفاظ کا ایک دوسری پیشگوئی سے ایک گہرا تعلق ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ (المرسلت : ۱۲) ایک وقت آنے والا ہے جب کہ رسولوں کو وقت مقررہ پر لایا جائے گا۔مفسرین یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن کی بات ہے لیکن اس مکالمہ سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ یہ اسی دنیا کی بات ہے اور اسی دنیا میں عذاب سے مہلت مانگی جائے گی اور یہ کہا جائے گا کہ اگر ہمیں مہلت ملے تو ہم استغفار کریں گے اور دل کی پیروی کریں گے۔اسی ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپکو مخاطب کر کے ان الفاظ کا ذکر فرمایا جَرِى اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ ( تذکر صفحہ: ۶۳) اللہ کا پہلوان نبیوں کے لبادہ میں۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے و سَكَنْتُمْ فِي مَسْكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُو تم انہی لوگوں کے مساکن میں رہتے ہو یا رہتے رہے ہو جنہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا تھا اور تم پر خوب گھل چکا ہے