خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 142

خطبات طاہر جلدم 142 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء مبتلا ہو جاتا ہے، ان کا تصور جہاد اعصاب شکن ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف باتیں کرنے اور الزام تراشی میں آج یہ مودودی گروہ سب سے آگے ہے۔مگر اس سے پہلے کہ مولوی مودودی کا تصور جہاد ان کے الفاظ میں آپ کے سامنے رکھوں میجر آسبرن کی کتاب ” Islam Under The Arab Rule “ اسلام زیر حکومت عرب کا ایک اقتباس میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں کہ جب آنحضرت علی کو تکلیفیں دی جاتی تھیں تو اس وقت : ”جو اصول آپ نے تجویز کئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ مذہب میں کوئی زبردستی نہیں ہونی چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔مگر کامیابی کے نشے نے آپ کے بہتر خیالات کی آواز کو (نعوذ بالله من ذالک) بہت عرصہ پہلے ہی خاموش کرایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔(انہوں نے ) جنگ کا ایک عام فرمان جاری کر دیا تھا (جس کا نتیجہ یہ تھا کہ ) اہل عرب نے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں تلوار لے کر جلتے ہوئے شہروں کے شعلوں اور تباہ و برباد شدہ خاندانوں کی چیخ و پکار کے درمیان اپنے دین کی اشاعت کی۔( صفحه ۴۶ مطبوعہ لانگ مین گرین اینڈ کمپنی لندن) غلبہ اسلام کا کیسا ظالمانہ اور کیسا ناپاک تصور ہے۔جو ایک اسلام دشمن مستشرق پیش کر رہا ہے اسی تصور کو مولوی مودودی لگی لپٹی باتوں میں گویا ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر اور اپنی فصاحت اور بلاغت کے پردوں میں چھپا کر اس طرح پیش کرتے ہیں: " رسول اللہ علہ تیرہ برس تک عرب کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔وعظ و تلقین کا جو موثر سے موثر انداز ہوسکتا تھا اسے اختیار کیا۔مضبوط دلائل دیئے، واضح حجتیں پیش کیں ، فصاحت و بلاغت اور زور خطابت سے دلوں کو گرمایا ، اللہ کی جانب سے محیر العقول معجزے دکھائے ، اپنے اخلاق اور اپنی پاک زندگی سے نیکی کا بہترین نمونہ پیش کیا اور کوئی ذریعہ ایسا نہ چھوڑا جو حق کے اظہار و اثبات کے لئے مفید ہو سکتا تھا۔لیکن آپ کی قوم نے آفتاب کی طرح آپ کی صداقت کے روشن ہو جانے کے باوجود آپ کی دعوت قبول کرنے