خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 130 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 130

خطبات طاہر جلدم 130 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء اس بہانہ سے اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنا چاہا ہے۔گورنمنٹ انگریزی اور جہادروحانی خزائن جلد۷ اصفحہ :۱۲۔۱۳) پس یہ وہ جہاد کا تصور ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حرام قرار دیا ہے۔علماء میں سے آج کون ہے جو اس کو آج بھی حلال کہ سکتا ہے۔اس لئے جھوٹے الزام لگا رہے ہیں۔جس چیز کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حرام کیا ہے وہ مخالفین کے اپنے تصورات تھے۔لیکن ان کے یہ تصورات اب ظاہر ہورہے ہیں، اس وقت وہ خفیہ باتیں کیا کرتے تھے اور جہاں تک انگریزی حکومت کا تعلق ہے اس کو مخاطب کر کے جہاد کا وہی تصور بتاتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔میں اس مضمون کے متعلق ابھی چند اقتباس پڑھوں گا تب آپ کو پتہ چلے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کیسے کیسے مخالفین سے واسطہ پڑا تھا۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو یونہی تو نہیں چنا کرتا اور ان سے پیار کیا کرتا بلکہ وہ انہیں نہایت ہی دکھوں اور مصیبتوں کے ابتلاء میں ڈالتا ہے، انہیں نہایت ہی ظالموں کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے اور وہ صبر سے کام لیتے ہیں تب خدا کے حضور مقدس اور پاکیزہ گنے جاتے ہیں اور ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو خدا کو پیارے ہوا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : فرفعت هذه السنة برفع اسبا بها في هذه الايام کہ تلوار کے ساتھ جہاد کے شرائط پائے نہ جانے کے باعث موجودہ ایام میں تلوار کا جہاد نہیں رہا۔پھر فرمایا: وا مرنا ان نعد للكافرين كما يعدون لنا ولا نرفع الحسام قبل ان نقتل بالحسام۔اور ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم کافروں کے مقابل میں اس قسم کی تیاری کریں جیسی وہ ہمارے مقابلہ کے لئے کرتے ہیں یا یہ کہ ہم کافروں سے ایسا ہی سلوک کریں جیسا وہ ہم سے کرتے ہیں اور جب تک وہ ہم پر تلوار نہ اٹھائیں اس وقت تک ہم بھی ان پر تلوار نہ اٹھا ئیں۔“