خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 94
خطبات طاہر جلدم 94 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء تھے؟ ظاہر بات ہے کہ ہندوستان میں سلطنت برطانیہ کے استحکام سے بڑھ کر انگریزی حکومت کا اور کوئی مفاد نہ تھا اور بجائے اس کے کہ خود اندازہ لگایا جائے کہ انگریزی حکومت کے مفادات کیا تھے کیوں نہ انگریزوں کی حکومت سے وابستہ ان کے سرکردہ لوگوں کی اپنی زبان میں اُن کے مفادات کا میں آپ کے سامنے ذکر کروں کیونکہ انگریزوں کے مفادات تو بہر حال انگریز ہی بہتر جانتے تھے۔انگریزوں کے مفادات تو بہر حال وہی لوگ بہتر جانتے تھے جن کا انگریزی حکومت سے تعلق تھا اور وہ طاقت کے سرچشمہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔آج کے احرار یا کل کے احرار کو کیا پتہ کہ انگریز کے مفادات کیا تھے۔پس جب تک خود انگریز سے نہ پوچھا جائے ان کے مفادات کے متعلق ہم کچھ نہیں جان سکتے۔چنانچہ لارڈ لارنس بہت معروف آدمی ہیں ہندوستان کے وائسرائے بھی رہے ہیں انگلستان کی خدمات بجالانے میں ان کی شخصیت بہت نمایاں ہے چنانچہ لارڈ لارنس کی زندگی سے متعلق ایک کتاب Lord Laurence's Life کے نام سے بہت مشہور ہے اس کی دوسری جلد صفحہ نمبر 313 پر ان کے کچھ خیالات کا ذکر کرتے ہوئے مصنف لکھتا ہے: لارڈ لارنس نے کہا: کوئی چیز بھی ہماری سلطنت کے استحکام کا اس امر سے زیادہ موجب نہیں ہو سکتی کہ ہم عیسائیت کو ہندوستان میں پھیلا دیں پنجاب میں جہاں قادیان واقع ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اسلام کی دفاعی جنگیں لڑنے کی خاطر مامور فرمایا وہاں کے لیفیٹینٹ گورنر سر ڈونلڈ میکلوڈ اس بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں : میں اپنے اس یقین کا بھی اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم سرزمین ہند میں اپنی سلطنت کا تحفظ چاہتے ہیں تو ہمیں انتہائی کوشش کرنی چاہئے کہ یہ ملک عیسائی ہو جائے“ (The Mission by R۔Clark p۔47, London 1904) اسی طرح اُس زمانہ کے وزیر ہندسر چارلس ڈ ڈنے یہ اعلان کیا: ” میرا ایمان ہے کہ ہر وہ نیا عیسائی جو ہندوستان میں عیسائیت قبول کرتا ہے، انگلستان کے ساتھ ایک نیا رابطہ اتحاد بنتا ہے اور ایمپائر کے استحکام