خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 729 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 729

خطبات طاہر جلد ۳ 729 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء گالیاں دینا ہمارا دستور تو نہیں مگر اس ملک میں یہ دستور عام ہے جس ملک میں یہ باتیں کی جارہی ہیں اس میں کوئی شک نہیں ، باپوں کو گالیاں دینے پر قتل تو اب دور کی بات رہ گئی ہے کسی زمانہ میں ہوا کرتے ہوں گے۔اب تو ماں بہن کی گندی گالی پاکستان کی گلی گلی میں سنی جاتی ہے۔چنیوٹ کے بازاروں میں آپ پھر یئے اُن کے گھروں سے بھی یہی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، ان کی گلیوں سے بھی یہی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔جھنگ کے دیہات میں آپ چلے جائیے وہ اپنے جانوروں کو بھی ماں باپ کی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور اپنے ماں باپ کو بھی ماں باپ کی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور کوئی قتل نہیں کرتا کسی کو ، یہ تو اب عام دستور ہوگیا ہے۔جماعت احمد یہ تو گالیوں کی قائل ہی نہیں رہی مگر جو لوگ گالیوں کے قائل ہیں ان کا حد سے معاملہ آگے بڑھ چکا ہے اور عجیب بات ہے کہ باوجود اس کے کہ شدید ظلم کئے گئے ہیں جماعت احمدیہ پر اور نہایت ہی گندی زبان استعمال کی گئی ہے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اس کے باوجود جماعت کو چونکہ صبر کی تلقین ہے گالیاں سن کے دعا دینے کی تلقین ہے اس لئے جماعت کے صبر کا پیمانہ بھی خدا بڑھاتا چلا جارہا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کے کسی ایک شخص نے بھی کبھی کسی کو جسمانی نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کیا اس وجہ سے کہ وہ گالیاں دیتا ہے مگر جن لوگوں کے ہاں یہ تصور ہے جو ان اصولوں کے قائل ہیں ان کے سامنے اب کھلا امتحان ہے۔مثلاً پیچھے پاکستان میں داتا صاحب کے دربار کے عرس کے موقع پر لاکھوں بریلوی اکٹھے ہوئے اور باوجود اس کے کہ حکومت نے ہر طرف پہرے بٹھا رکھے تھے سب پہروں کو توڑکر ان سے بے نیاز ہو کر وہ اکٹھے ہوئے اور حکومت کی مشینری کی پیش نہیں جاسکی تھی۔اتنا عظیم انبوہ تھا انسانوں کا اور اس انبوہ عظیم میں دو قسم کی گالیاں دی گئیں۔ایک ان کو گستاخ رسول قرار دیا گیا تھا کہ جو جماعت احمدیہ کو گستاخ رسول کہتے ہیں اور اتنی شدید گالیاں دی گئیں ہیں دیو بندی اور وہابی اور اہلحدیث اور احراری مسلک اور کھلم کھلا کہا گیا ہے کہ یہ اصل خبیث تو یہ لوگ ہیں ، اصل گندے لوگ تو یہ ہیں کیونکہ یہ ہیں گستاخ رسول اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں ہم کسی گستاخی کو قبول نہیں کریں گے اور منظور نہیں کریں گے۔عجیب یہ ہے خدا تعالیٰ کی تقدیر! ایک طرف حکومت کے کارندے یہ احراری ہمارے اوپر لگے ہوئے ہیں کہ ہمیں گستاخ رسول قرار دیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس