خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 702 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 702

خطبات طاہر جلد ۳ 702 خطبه جمعه ۳۰ رنومبر ۱۹۸۴ء آج ہمارے سامنے اس طرح گزر رہی ہے ، اس طرح دوہرائی جارہی ہے جیسے ایک فلم چلائی جارہی ہو۔وہ زمانے جو کھوئے گئے تھے ، وہ قومیں جو زمین میں پیوست ہو کر تہہ خاک سو بھی چکی تھیں مدتوں سے، قصے اور کہانیاں بن چکی تھیں، ان کی تاریخ بھی زندہ ہورہی ہے اور ان قوموں کی تاریخ بھی زندہ ہو رہی ہے جن قوموں کو ہلاک کرنے کے لئے یہ گڑھے مردے پھر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں لیکن یہ زندگی جو مَكْرَ الشيئ کرنے والوں کی زندگی ہے یہ ایک عارضی زندگی ہے اور وہ جن کو ہلاک کرنے کے یہ درپے ہیں وہ انہی حالات میں سے ہمیشہ کی زندگی پا جائیں گے فَإِنَّ اللهَ كَانَ بِعِبَادِہ بَصِيرًا اس لئے زندگی پا جائیں گے کہ اللہ اپنے بندوں پر پیار کی نظر رکھتا ہے اور کبھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑا کرتا۔یہ ہے مضمون اس آیت کا یا ان چند آیات کا جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں۔اس سلسلہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بعض متعلقہ اقتباسات بھی میں پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ گزشتہ تقریباً دو سال سے میں مسلسل قوم کو متنبہ کر رہا ہوں کہ اپنی ہلاکت کے سامان اپنے ہاتھوں سے نہ کرو تم سے پہلے بڑی بڑی قومیں گزری ہیں، بڑے بڑے طاقتور آئے ہیں، بڑے بڑے فرعون اس دنیا میں پیدا ہوئے اور چلے بھی گئے اور ہر ایک نے ان میں سے کوشش کی تھی کہ خدا کی طرف سے اٹھائی جانے والی آواز کو دبا دیں اور ہلاک کر دیں اور جب بھی انہوں نے ایسا کیا وہ ہمیشہ خود ہلاک ہوئے اس لئے باز آؤ اور اپنی ان حرکتوں سے تو بہ کرو اور استغفار کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ استغفار کرنے والوں کو کبھی ضائع نہیں فرمایا کرتا ہے بے انتہا رحم کرنے والا اور بے حد تو بہ قبول کرنے والا خدا ہے لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آئی کسی کو اور دن بدن وہ پہلے سے زیادہ اپنی شرارت میں بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ اب یہ حالت پہنچ چکی ہے کہ براہ راست کلمہ طیبہ پر ہاتھ ڈالنے کا قوم نے فیصلہ کیا ہوا ہے یعنی قوم کے چند شریر سر برا ہوں نے لیکن چونکہ وہ قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں، چونکہ قوم ان کے ہاتھ نہیں روک رہی اس لئے ان کے شر سے قوم بھی پھر بچ نہیں سکے گی اس لئے اب میں اس قوم کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اپنے بڑوں کے ہاتھ اس ظلم سے روک لو جو لا زمنا تمہیں ہلاک کر دے گا کیوں کہ اب مقابلہ اس بات کا نہیں ہے کہ احمدی کتنے ہیں اور اس کے مقابل پر احمدیوں کے دشمن کتنے ہیں؟ اگر ساری دنیا بھی کلمہ طیبہ کو