خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 672 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 672

خطبات طاہر جلد ۳ 672 خطبه جمعه ۱۶/ نومبر ۱۹۸۴ء بجائے گرنے کے اتنی بہتر ہو گئی کہ اب وہ سفر پر آجکل امریکہ گئے ہوئے ہیں اور وہ خود حیرت زدہ ہیں کہ یہ مجھ سے کیا ہو گیا، میں نے تو جانے کی تیاری میں بیعت فارم پر کیا تھا یہ تو میرے جانے کے تو دن ہی مل گئے۔تو ایک واقعہ نہیں بہت سے ایسے واقعات ہورہے ہیں اور ویسے بھی ایک تو روئیدگی ہے غیروں کے مقابل پر ایک ہے اندرونی روئیدگی۔اس کی مثالیں میں بار ہا آپکے سامنے بیان کر چکا ہوں اس کثرت سے جماعت کے اندر روحانیت زندہ ہو رہی ہے اور نشو ونما پا رہی ہے کہ ان گالیوں کا اگر صرف یہی پھل ملتا تو بھی بہت ہی بڑا اور پیارا پھل تھا۔ایک طرف گالیاں بکنے والے اپنے دلوں کو گندہ کر رہے ہیں، اپنی فطرتوں کو مزید مسخ کر رہے ہیں،ان کو لذت آہی نہیں سکتی ان چیزوں میں کبھی بدی میں بھی کوئی لذت ہے؟ جتنا مرضی وہ بولیں ، جتنی مرضی گالیاں دیں، یہ کیفیت ان کے دل کی نہیں بدل سکتی جو خدا نے مقرر فرمائی ہے۔لیغیظ بِهِمُ الْكُفَّارَ وہ غیظ و غضب میں مبتلا رہیں گے، غیظ و غضب والا جب تک وہ یہ نہ دیکھ لے کہ جس کے خلاف میرا غیظ ہے وہ مر چکا ہے، مٹ چکا ہے اس وقت تک اس کا غلیظ مٹا نہیں کرتا۔تو آپ اپنی تکلیف دیکھ رہے ان کی تکلیف پر بھی تو نظر کریں کیا ان کا حال ہو گیا ہے؟ اچھے اچھے تعلیم یافتہ لوگ بھی بالکل پاگل ہو گئے ہیں۔غیظ وغضب میں گالیاں دے دے کر اپنے دلوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن آپ مریں تو دل ٹھنڈے ہوں نا ان کے! آپ تو بڑھ رہے ہیں انکی آنکھوں کے سامنے، مزید نشو ونما پار ہے ہیں۔پس آپ کے دلوں کے لئے خدا نے فرحت مقدر فرمائی ہے اور اُن کے لئے غیظ وغضب مقدر فرمایا ہے اور وہ جو غیظ و غضب ہے وہ بہت زیادہ تکلیف دہ حالت ہے۔احمدی جو درد سے روتے ہیں اور گریہ وزاری کرتے ہیں اور بعض دفعہ اپنے اوپر بڑا رحم بھی کرنے لگ جاتے ہیں۔اوہو ہمارا کیا حال ہو گیا اے اللہ ! ہم کہاں پہنچ گئے حالانکہ وہ خود جانتے ہیں ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ خدا کی راہ میں آنسو بہانے میں جو لذت ہے اس کا دنیا کی دوسری لذتیں مقابلہ ہی نہیں کرسکتیں اور حسد کے نتیجہ میں جلنا اور گالیاں دینا اس میں لذت ہی کوئی نہیں۔ان کے دلوں پر نظر ڈال کر دیکھیں تو وہ تو پاگل ہوئے پڑے ہیں بے چارے، ایک آگ میں جل رہے ہیں جو بھسم کر رہی ہے ان کو اور ان کو چین نصیب نہیں ہورہا۔جتنا زیادہ آپ کو بڑھتا ہوا دیکھتے ہیں اتنا زیادہ تکلیف میں مبتلا ہیں۔واقعاتی