خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 664
خطبات طاہر جلد ۳ 664 خطبه جمعه ۱۶/ نومبر ۱۹۸۴ء فیصلہ کا نام دے کر بہت اچھالا گیا ، اخبارات میں بھی اور ٹیلی ویژن پر بھی اور ریڈیو پر بھی اور بڑے فخر کے ساتھ بعض علما کو پروگراموں میں پیش کیا گیا اور بار بار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی شان میں انتہائی غلیظ زبان استعمال کر کے اپنی دانست میں انہوں نے اپنی فتح کے شادیانے بجائے۔پاکستان سے جو خطوط آرہے ہیں ان میں تو شاید ہی کوئی ایسا ہو جس میں انتہائی درد اور کرب کا اظہار نہ کیا گیا ہو۔بچوں کی طرف سے بھی اور بڑوں کی طرف سے بھی ، مردوں کی طرف سے بھی اور عورتوں کی طرف سے بھی ، ایک انتہائی دردناک کیفیت کا منظر سامنے آتا ہے ان خطوط کو پڑھ کر۔یوں معلوم ہوتا ہے جیسے مچھلی پانی کے بغیر تڑپتی ہو اس طرح نہایت ہی تکلیف سے احمدی احباب اور احمدی خواتین ، بڑوں اور بچوں نے تڑپ تڑپ کر کچھ راتیں اور کچھ دن گزارے ہیں۔میں ان کے لئے خود بہت دردمند ہوں جہاں تک بس چلتا ہے اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرتا ہوں اور ساری جماعت جو ساری دنیا میں ہے اس کی یہی کیفیت ہے۔ایک بدن کا ایک حصہ دیکھ رہا ہو تو مومن کا سارا بدن سارا وجود اس دکھ کو محسوس کرتا ہے اس لئے پاکستان کے احمدی اس غم میں اکیلے نہیں۔ایک تو براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں گستاخی کی خبروں سے ہر جگہ احمدی کا دل دکھا ہوا ہے۔پھر پاکستان کے احمدیوں کی مجبوریاں اور لاچاریاں دیکھ کر دوہری تکلیف ہوتی ہے اس لئے واقعہ یہی ہے کہ کل عالم کا احمدی اس وقت شدید بے قرار اور درد میں مبتلا ہے۔لہذا میں اس مضمون میں آج کے خطاب میں آپ کی توجہ اس طرف مبذول کروانی چاہتا ہوں کہ یہ واقعات کوئی اتفاقی حادثات نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک وسیع عالمی تدبیر کا ایک حصہ ہیں اور جو کچھ آپ کے ساتھ آج ہورہا ہے یہ ازل سے مقدر تھا کہ اسی طرح ہو اور اس میں جماعت احمدیہ کے لئے عظیم الشان خوش خبریاں پوشیدہ ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ انتہائی غضب ناک کیفیت جو احمدیت کی دشمنی کی آج ہمیں نظر آرہی ہے اس کی طرف بھی دھیان کریں کہ یہ کس چیز کا نتیجہ ہے؟ قرآن کریم پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں یہ مقدر تھا کہ خوبصورت نرم و نازک کونپلوں کی طرح اسلام کا پیغام از سرنو پھوٹے اور پھر دیکھتے دیکھتے بڑھتا چلا جائے اور جتنا وہ بڑھے اور نشو ونما پائے اسی قدر دیکھنے والے دشمن اس پر غیظ و غضب میں مبتلا ہو جائیں۔