خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 589
خطبات طاہر جلد ۳ 589 خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۴ء جھکنا پڑے، چاہے مجھے اپنا حق چھوڑنا پڑے میں نے معافی میں پہلا ہاتھ بڑھانا ہے۔کہتے ہیں چنانچہ میں نے اپنے بزرگ سے جا کر نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے تو ان سے معافی مانگی اور وہ بھی جس طرح بے اختیارا انتظار میں ہوں دوڑ کر گلے لگ گئے۔کہتے ہیں جو ہماری آنکھوں کا حال تھا جو ہمارے دل کی کیفیت تھی کوئی دنیا میں اس کا تصور نہیں کر سکتا۔ایسی روحانی لذت تھی کہ خدا کے فضل کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہو سکتی۔کہتے ہیں اس چسکے میں میں وہیں بیٹھ گیا کیونکہ میرا ایک اور بھی عزیز تھا جس سے میری لڑائی تھی میں نے کہا وہ نماز سے سلام پھیرے تو میں اس سے بھی ملکر جاؤں اور عجیب کہتے ہیں اتفاق تھا کہ اسکے دل میں بھی نماز کے دوران یہی کیفیت پیدا ہوگئی۔میں اس کو تاک رہا تھا اس نے سلام پھیرا اور دوڑ کر میری طرف آیا اور کہا میں پہل کرتا ہوں حالانکہ فیصلہ پہلے میں بھی کر چکا تھا کہ میں نے ہی پہل کرنی ہے۔یہ شہروں میں بھی واقعات ہو رہے ہیں ، دیہات میں بھی واقعات ہور ہے ہیں اور دور دراز علاقوں میں آزاد کشمیر کے چھوٹے چھوٹے دیہات ہیں وہاں بھی یہ واقعات رونما ہور ہے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو خدائی تقدیر کے مطابق کام کر رہے ہیں اور ایک دفعہ پھر وہی دور آ رہا ہے اللہ کے فضل اور احسان کے ساتھ کہ جس میں خدا تعالیٰ کے فرشتے دلوں کو باندھا کرتے ہیں انسان کے بس کی بات نہیں۔چنانچہ ایک صاحب نے اس تجربے کے بعد لکھا کہ اب تو یوں لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے زمانہ میں پہنچ گئے ہیں۔اس طرح ہمارے دل صاف ہوئے ہیں اس طرح محبتیں پیدا ہوئیں ہیں اپنے بھائیوں کے لئے کہ وہ واقعات جو تاریخ میں پڑھتے تھے وہ ذہن میں آنے لگ گئے ہیں۔چنانچہ یہ وہ مضمون ہے جسے خدا تعالیٰ پہلے خوف دلا کر توجہ دلاتا ہے جس کی طرف اعلیٰ ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہے پھر آسان طریق بتا دیتا ہے کہ اتنا تو کر سکتے ہو کہ ایک ہاتھ جو حضرت محمد مصطفی اے کے ہاتھ میں دے دیا اسے واپس نہیں لینا۔کاٹا جائے ،تم پارہ پارہ کئے جاؤ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤ لیکن اب یہ ہاتھ جو ہے یہ اب واپس نہیں جائے گا۔یہ فیصلہ کر لو تو ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں کہ تم سے وہی سلوک کریں گے جو ان لوگوں سے ہوتا ہے جنکے متعلق فرمایا وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُم مُّسْلِمُونَ جس لمحہ بھی اب تم پر موت آئے گی اس حالت میں وہ