خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 587
خطبات طاہر جلد ۳ 587 خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۴ء تمہارے سینوں میں ایک دوسرے کے خلاف فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ تمہارے دلوں کو اس طرح محبت سے باندھ دیا اللہ تعالیٰ نے فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا کہ تم بھائی بھائی بن گئے۔غیر معمولی محبتیں نصیب ہوئی ہیں محمد مصطفی ﷺ کی وساطت سے آنحضرت کے غلاموں کو اور اسی طرف اشارہ ہے۔اتنا شدید دشمنی میں مبتلا تھا عرب کہ ہر قبیلہ دوسرے سے بٹا ہوا تھا، ہر عہد اور دوستی کے پیمان دراصل نفرت پر مبنی ہوا کرتے تھے جس طرح آجکل کے زمانہ میں دنیا نفرتوں میں بٹی ہوئی ہے اور دوستی کے عہد و پیمان کا مطلب ہے فلاں قوم کے خلاف ہماری دوستی ہے، فلاں دشمن کے خلاف ہماری دوستی ہے۔اسی طرح عربوں کی حالت تھی اور دنیا جب تباہی کے کنارے پر پہنچا کرتی ہے تو اس کا یہی حال ہو جایا کرتا ہے۔دوستی اپنے مثبت معنی چھوڑ دیتی ہے اور منفی معنی اختیار کر لیتی ہے۔کسی کو دکھ پہنچانے کے لئے دوستی کسی پر ظلم کرنے کے لئے دوستی کسی کی دشمنی میں اتحاد، کسی کی عدوات میں اتفاق یہ سارے قرینے تباہی اور ہلاکت کے قرینے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے زمانے میں عرب سوسائٹی میں بہت نمایاں طور پر یہ خصوصیات پیدا ہو گئی تھیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ تم آگ کے کنارے پر پہنچ چکے تھے جس طرح آج کل دنیا آگ کے کنارہ تک پہنچ چکی ہے اور بڑھ رہی ہے تو وہی حالت اس وقت کے عرب کی تھی فرماتا ہے فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا عام دستور تو یہ ہے کہ جب قوموں میں یہ علامات پیدا ہو جایا کریں تو پھر وہ واپس نہیں آیا کرتیں۔پھر وہ ہلاک ہو جایا کرتی ہیں فرمایا یہ اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ ہلاکت کے منہ سے تمہیں کھینچ کر واپس نکال لیا اور محمد مصطفی ﷺ کے توسط اور آپ کے احسان کے نتیجے میں تمہیں اس تباہی سے آزاد کر دیا۔كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ أَيَتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اى طرح اللہ تعالیٰ کھول کھول کر اپنی آیات تمہارے سامنے رکھتا ہے تا کہ تم ہدایت پاؤ۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اگر چہ مرور زمانہ سے بعض جماعتوں میں اختلافات بھی پیدا ہو گئے تھے ، بعض نفرتوں نے بھی جگہ لے لی تھی۔اتفاقات اختلافات میں بدل رہے تھے اس کے باوجود یہ جو دشمنی کا دور آیا ہے اور خاص طور پر حکومت کی طرف سے جو معاندانہ رویہ اختیار کیا گیا اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ پھر جماعت پر یہ