خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 336
خطبات طاہر جلد ۳ 336 خطبہ جمعہ ۲۹/ جون ۱۹۸۴ء صورت حال نظر آ رہی ہے وہ یہی ہے کہ اس تحریک کو مزید پھیلا نا پڑے گا۔جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے امریکہ میں تو ابھی ایک حصہ ایسا ہے جو قربانی میں حصہ لینے کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی حصہ نہیں لے رہا۔معلوم ہوتا ہے امریکہ کی جماعت کا یہ حصہ عدم تربیت کا شکار رہا ہے اور اس طرف جماعت کو توجہ کرنی چاہئے اور ایک طبقہ ان میں سے ایسا بھی ہے جو خواہش رکھتا ہے، بلند ارادے رکھتا ہے لیکن ان کو توفیق نہیں ہے اور ایک مخلصین کا ایسا حصہ ہے کہ جو صف اول میں بھی سابقون میں ہیں یعنی صفِ اول کے اگلے حصوں میں نمایاں ہیں اور یہ وہ حصہ ہے جس کے متعلق میں نے تجربہ کیا ہے کہ جب بھی مجھے جماعت امریکہ کی طرف سے یہ اطلاع ملتی ہے کہ ابھی ضرورت پوری نہیں ہوئی ابھی ہم ضرورت سے پیچھے ہیں آپ دوبارہ تحریک کریں تو جب میں تحریک کرتا ہوں تو یہی لوگ دوبارہ پھر اسی میں حصہ لیتے ہیں اور سہ بارہ تحریک کروں تب بھی یہی لوگ حصہ لیتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں پھر اور بعض تو اپنی استطاعت کے آخری کناروں تک پہنچ گئے ہیں۔پہلے کسی نے اگر دس ہزار ڈالر کا وعدہ کیا تھا دوبارہ تحریک کی تو پچیس ہزار کا کر دیا حالانکہ دوبارہ ان کو تحریک نہیں کی گئی تھی۔پھر جب تحریک کی گئی کہ ابھی امریکہ کی جماعت کو مزید ضرورت ہے تو پچیس کی بجائے پچاس ہزار کر دیا۔تو گوشیخ مبارک احمد صاحب کا خط آیا تھا ان کو میں نے جواب یہ دیا ہے کہ اب میں امریکہ میں مزید تحریک نہیں کروں گا کیونکہ مجھے علم ہے کہ وہی لوگ جو حد استطاعت تک پہنچ چکے ہیں انہوں نے مزید قربانیاں کرنی ہیں اور اپنے وہ حقوق بھی وہ تلف کر دیں گے جن کے متعلق قرآن کریم حفاظت کرنے کی تلقین فرماتا ہے۔اولاد کے بھی حقوق ہیں، دوسرے بھی حقوق ہیں نفس کے بھی حقوق ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ خلیفہ وقت اس جرم میں شریک ہو جائے کہ اتنا زیادہ قربانی طلب کرے اور قبول کر لے کہ جو قران کریم کی ہدایات کے خلاف ہوں۔آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کو سمجھنے کے بعد جو تفصیلات کے ساتھ ہمارے سامنے نقشہ کھینچا ہے کہ اس قسم کی قربانی ہونی چاہئے ، یہ یہ حقوق ہیں جو ادا ہونے چاہئیں، ان کوملحوظ رکھنا پڑے گا اور ملحوظ رکھا جاتا ہے۔چنانچہ بعض اوقات آنحضرت ﷺ نے قربانی رد فرما دی کہ نہیں تمہاری اولاد کا حق ہے اور یہ بھی فرمایا کہ خدا یہ پسند نہیں کرتا کہ اپنی اولاد کو فقیر چھوڑ جاؤ اور اتنی زیادہ قربانی پیش کرو۔تو بہر حال ایسے لوگ جو جس حد تک ممکن تھا قربانیاں کر چکے ہیں ان سے مزید کا مطالبہ نہیں