خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 331
خطبات طاہر جلد ۳ 331 خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۸۴ء کہتے ہیں قیمت کو تو مراد یہ ہوتی ہے کہ ہماری قیمت کب ڈالی جائے گی ؟ کب ہمیں پوچھا جائے گا ؟ کب ہماری محنتوں کی طرف نگاہ کی جائے گی ؟ تو ان معنوں میں قدر کی رات سے مراد یہ ہے کہ ایسی دکھوں کی رات جب بعض دکھ اٹھانے والوں کی قیمت ڈالی جائے گی۔ان کو بے سہارا نہیں چھوڑا جائے گا۔اللہ کے پیار کی نگاہیں ان پر پڑیں گی اور ان کی قیمت ڈال کر بتائیں گی کہ دنیا میں اگر کوئی قیمتی وجود تھے تو یہی تھے۔ان کے مقابل پر بڑے سے بڑے لوگوں کی بھی کوئی قیمت نہیں ، بڑی سے بڑی قوموں کی بھی کوئی قیمت خدا کی نظر میں نہیں ہے۔تو قیمتیں ڈالنے والی رات لکھی چیزوں کو رد کرے گی کہ تمہاری کوئی قیمت نہیں ہے، وہ کمی چیزیں رد کی جائیں گی جو بظاہر بڑی شان وشوکت والی بظاہر بڑی چمک دمک والی نظر آتی تھیں اور کچھ کمی نظر آنے والی چیزوں کی قیمت ڈالی جائے گی جو دنیا کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں، بڑی ان کو قیمت ملے گی۔چنانچہ آنحضرت مے کے ساتھ اور آپ کے غلاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ نے یہی سلوک فرمایا اور آپ کا بھی مزاج چونکہ اپنے رب کا مزاج تھا اس لئے آپ بھی اسی طرح لوگوں کے لئے قدر کی رات بن گئے تھے ، لوگوں کے لئے قیمتیں اس طرح ڈالتے تھے جس طرح خدا اپنے بندوں کی قیمتیں ڈالا کرتا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ آنحضرت عمﷺ کے متعلق بہت پیارا واقعہ ہے جو با ربار جماعت کے درسوں اور خطبوں میں بیان ہوتا رہتا ہے لیکن ایک ایسا پیارا واقعہ ہے جس کی لذت ختم ہی نہیں ہوسکتی اور اس کا تعلق بھی لیلۃ القدر کے ان معنوں سے ہے۔آنحضرت ﷺ ایک دفعہ بازار سے گزر رہے تھے تو ایک ایسا حبشی یا معمولی حیثیت کا انسان ضروری نہیں کہ حبشی تھا وہ جو نہایت ہی بدصورت تھا، ایسا بدصورت کہ لوگ اس کے چہرے پر نظر ڈال کر گھبرا کر دوسری طرف منہ کر لیا کرتے تھے اور بالکل بے زرتھا، نہایت مفلس اور گندے کپڑے، پسینے میں لت پت ، مزدوری کرنے والا ایک نہایت غریب انسان۔وہ ایک موقعہ پر کھڑا اپنی حالت کے اوپر غور کر رہا تھا۔آنحضرت ﷺ کا وہاں سے گزرہوا اور آپ نے اس کے چہرے کی کیفیت پہچان کر پیچھے سے جا کر جس طرح ما ئیں بعض دفعہ بچوں کو لپیٹ لیتی ہیں اپنی بانہوں میں یا آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں پیار کرنے والے اس طرح آپ نے پیچھے سے جا کر اسکو اپنی بانہوں میں لپیٹ لیا، سمیٹ لیا اور اس زور سے جکڑ لیا کہ وہ مڑ کے دیکھ نہیں سکتا تھا کہ کون ہے۔اس نے اپنے ہاتھ آنحضرت علیہ کے جسم پر پھیر نے شروع کئے اور پھیرتا