خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 601
خطبات طاہر جلد ۲ 601 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۳ء حق امانت کی ادائیگی ( خطبه جمعه فرموده ۲/ دسمبر ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصی ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل قرآنی آیت تلاوت فرمائی: إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (الاحزاب : ١٢) اور پھر فرمایا: مذہب کے دو ہی بنیادی مقاصد ہیں ایک اللہ تعالیٰ سے اور دوسرے بنی نوع انسان سے خدا کی رضا کے مطابق تعلق۔اس دوسرے حصہ کو حقوق العباد کہتے ہیں۔تو حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ادا کرنا یہ دو ہی تمام مذاہب کے مقاصد ہیں اور ہونے چاہئیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا آپس میں کیا رابطہ ہے اور یہ کیا نسبت رکھتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ آپ کسی طرف سے بھی بات شروع کریں یہ ایک دوسرے پر جا کر منتج ہو جاتے ہیں اور ان کے درمیان کوئی ایسی لکیر نہیں کھینچی جاسکتی کہ ایک کو دوسرے سے کلیتہ جدا کر دیا جائے۔حقوق العباد کے پہلو سے دیکھیں تو کوئی انسان با خدا بن ہی نہیں سکتا جب تک پہلے حقوق العباد ادا نہ کرے گویا حقوق العباد وہ پہلی منزل ہے جس سے انسان با خدا ہو جاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ پر جب پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ نے حضرت خدیجہ سے خوف کا