خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 347 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 347

خطبات طاہر جلد ۲ 347 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۳ء جس کا ذکر خدا فرمارہا ہے کہ اَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ہماری باتوں کو نہیں مانتے تو دنیا کوتو دیکھیں۔ذرا اس زمین کی سیر تو کریں، معلوم تو کریں ان قوموں کے حالات جو مٹادی گئیں اور نہ زمین سلا دی گئیں ، وہ جن کے افسانے ملتے ہیں ، جن کی حقیقت کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔فرمایا دنیا میں پھروان لوگوں کے حالات کو دیکھو جو تم سے پہلے تھے۔وہ بھی تمہارے جیسی حرکتیں کیا کرتے تھے اور تمہاری طرح کے ہی دعوے کیا کرتے تھے تمہاری طرح ہی ان لوگوں کے پیچھے پڑ جاتے تھے جن کا کوئی جرم نہیں تھا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے۔انہوں نے محض خدا کی خاطر دشمنیاں مول لیں اور خدا کے نام پر تم دشمنیوں کے لئے بے باک ہو گئے۔ان قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کرو۔دَمَّرَ اللهُ عَلَيْهِمْ خدا نے ان کو نیست و نابود کر دیا۔دنیا سے ان کے نشان تک مٹادیئے سوائے ان عبرت کے نشانات کے جو آئندہ قوموں کے لئے محفوظ رکھے گئے ہیں۔وَ لِلْكَفِرِینَ اَمْثَالُهَا فر مایا اے محمد! علی یہ اعلان کر دے کہ آج کے کافروں کے لئے بھی وہی باتیں ہوں گی جو پہلے کافروں کے لئے ہوا کرتی تھیں۔کوئی نئے دستور جاری نہیں ہوں گے جو پہلے کافروں کا حال تھا اور جس طرح پہلے ظالموں کے ساتھ خدا کی تقدیر نے سلوک کئے آج کے کافروں اور آج کے ظالموں سے بھی خدا کی تقدیر وہی سلوک کرے گی۔جتنی دفعہ وہ ان باتوں کو دہرائیں گے اتنی دفعہ ہم ان باتوں کو دہراتے چلے جائیں گے۔نتیجہ کیا نکالا؟ یہی کہ یہ اولیاء اللہ ہیں۔فرمایا تم اس طرح نہیں مانتے تو تاریخ عالم سے سبق ڈھونڈ واور تاریخ کی گواہی پر یقین کرو۔سوائے اس نتیجے کے کہ یہ اولیاء اللہ ہیں تم کوئی اور نتیجہ نہیں نکال سکو گے۔اس کے سوا ان کے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔جتنی دفعہ بھی خدا کے نام پر خدا کے نام لیواؤں پر ظلم کئے گئے بلا استثناء سارے خطہ عالم پر ایک ہی تاریخ آپ کو دہرائی جاتی نظر آئے گی اور وہ تاریخ یہ ہے کہ مظلوم نہیں مٹے اور ظالم مٹادیئے گئے ، جن کی گردنیں کاٹی جارہی تھیں ان کی گردنوں کو برکت دی گئی، جن کے اموال لوٹے جارہے تھے ان کے اموال کو برکت دی گئی ، جن کے نفوس کم کئے جارہے تھے ان کے نفوس کو برکت دی گئی، جن کے گھر جلائے جارہے تھے ان کے گھروں کو برکت دی گئی، جن کے بچے قتل کئے جارہے تھے ان کے بچوں کو برکت دی گئی غرضیکہ کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں جس کو اختیار کر کے دشمن نے ان کو گزند پہنچانے کی کوشش کی ہو اور اس پہلو سے اللہ تعالیٰ نے ان کو غیر معمولی برکت نہ عطا فرمائی ہو۔