خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 340
خطبات طاہر جلد ۲ 340 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۳ء آخری دوسورہ محمد سے اخذ کی گئی ہیں لیکن دونوں سورتوں کی آیات ایک ہی مضمون کو بیان کر رہی ہیں اور اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ میرے بندے جو خوف اور غم سے آزاد کئے جاتے ہیں ان کی بے خوفی اور بے غمی کی وجہ کیا ہے؟ وہ کون سے موجبات ہیں جن کے نتیجے میں وہ بے غم ہو جاتے ہیں؟ ان کی بے خوفی پر دو قسم کی وجوہات بیان فرمائی گئیں اور دو قسم کے دلائل دیئے گئے: اول دلیل یہ کہ وہ اللہ کے دوست ہوتے ہیں اور اللہ ان کا دوست ہوتا ہے اور ہر بے خوفی اور ہر بے نھی جو اس بنا پر پیدا ہوتی ہے کہ بے خوف اور بے غم انسان اللہ کا دوست ہے اور اللہ اس کا دوست ہے وہی دراصل حقیقی بے خوفی اور حقیقی بے غنی ہے۔دوسرے شہادت کے طور پر خدا تعالیٰ تاریخ انسانی کو پیش فرماتا ہے کہ تاریخ انسانی اس بات پر گواہ ہے کہ ایسے لوگ جو خدا کے دوست ہو جاتے ہیں اور جن کا خدا دوست ہو جاتا ہے ان کو کبھی کوئی خوف اور کوئی حزن ستا نہیں سکا۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب ہم ڈرانے والوں اور ان لوگوں کے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں جو بڑی جرات اور بے باکی سے ان ڈرانے والوں کی دھمکیوں کو رد کر دیتے ہیں تو ہمیں تین قسم کے گروہ نظر آتے ہیں: اول وہ جو گیدڑ بھبکیاں دینے والے ہوتے ہیں۔خواہ مخواہ بغیر حقیقت کے ڈرانے والے، جن میں طاقت ہی کوئی نہیں ہوتی کہ کسی کو گزند پہنچ سکیں۔ان کے مقابل پر بے خوفی دکھانے والے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔دل کے خواہ چھوٹے بھی ہوں، ان کو پتہ ہوتا ہے کہ منہ کی باتیں ہیں۔ہمیں کوئی بھی فرق نہیں پڑتا ، خالی ڈراوے ہیں، دھمکیاں ہیں۔جس شدت کے ساتھ یہ لوگ ڈراوے دے رہے ہیں اسی شدت کے ساتھ جواب میں گالیاں دو اور کہو کہ جو مرضی کرنا ہے کر لو، جو بگاڑنا ہے بگاڑ لو۔ایسے ڈرانے والے بھی غیر حقیقی ہوتے ہیں اور ان سے نہ ڈرنے والے بھی غیر حقیقی۔یعنی دونوں کے پس منظر میں کوئی سچائی نہیں ہوتی۔ایک دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جن کے خوف تو حقیقی ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی ناسمجھی ، کم علمی اور نا عاقبت اندیشی کے نتیجے میں جرات کے مظاہرے کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ ان کا انجام کیا ہوگا ؟ مثلاً جیسا کہ اردو میں کہاوت مشہور ہے بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور خطرات کا انکار کر دیتا ہے وہ یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ کوئی خطرہ در پیش ہے۔پس ایسی بے خوفی