خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 81
خطبات طاہر جلد 17 81 خطبہ جمعہ 6 فروری1998ء شعور کے بغیر کہ وہ کیا کر رہا ہے خدا کی بجائے شیطان کو سجدے کرے گا۔یہ ساری زندگی کی ناکامی کا راز ہے۔اپنے نفسوں کا مطالعہ خود کر کے دیکھیں اپنے حالات پر خود غور کریں۔اپنے بیوی بچوں سے سلوک، اپنے بڑوں سے، اپنے چھوٹوں سے، اپنے ہمسایوں سے، اقتصادی معاملات میں جن سے آپ معاملہ کرتے ہیں ان سب سے جو سلوک کرتے ہیں ان کا ایک ایک کا میں ذکر پہلے کر چکا ہوں کہ کس تفصیل سے آپ کو غور کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ان باتوں کو اس تفصیل سے میں نہیں دو ہزار ہا لیکن ان باتوں کا بار بار ذکر کرنا میرے لئے از بس ضروری ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ اس ذکر کو میں کبھی چھوڑ دوں کیونکہ جب بھی میں نے یہ ذکر چھوڑا میں اپنے فرض منصبی کو ادا نہ کرنے والا ہوں گا۔یہ زندگی کا ساتھ ہے کیونکہ إلی يَوْمِ يُبْعَثُونَ کو یہی کہانی دو ہرائی جانے والی ہے۔آخر آدم سے لے کر قیامت تک جو کہانی دوہرائی جارہی ہے اس کا ذکر ایک دو دفعہ کے بعد کیسے چھوڑا جا سکتا ہے۔ضرورت نہ ہوتی تو اس تفصیل سے قرآن کریم بیان نہ کرتا۔پس آپ یا درکھیں کہ ہر دفعہ جب میں نے اپنے خطبات میں ایسی باتیں کہیں تو اپنے نفس پر غور کر کے دیکھیں ایک دو تین دن تک، چند دن تک آپ کے دل پر اثر رہا اور آپ نے سوچا کہ ہاں یہ غلطی ہو گئی تھی اور اس کے بعد جو چیزیں بری ہیں ان میں ہی آپ ان چیزوں کا حسن دیکھنے لگ گئے۔انانیت نے اکثر انسانوں پر قبضہ کر لیا۔جب میں آپ کہتا ہوں تو مراد یہ ہے کہ عام طور پر یہی ہوتا ہے اور یہی جماعت کے افراد سے بھی ہوتا چلا آیا ہے کچھ کم کچھ زیادہ ، کچھ اور زیادہ خدا کی راہ سے ہٹ کر غیر اللہ کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔اب یہ زندگی جو صراط مستقیم کی زندگی ہے ایک تو ابتلاؤں کی زندگی ہے دوسرے ے مشکل بہت ہے کیونکہ قرآن کریم فرما رہا ہے شیطان جب تمہیں بہکاتا ہے تو حسین نظارے دکھا کے بہکاتا ہے۔اب حسین نظارے دیکھنا اور ان کی طرف متوجہ نہ ہونا بڑا مشکل کام ہے۔ہر آزمائش کے وقت آپ کو ایک بہت خوبصورت چیز دکھائی جاتی ہے اور انسانی نفس لا زم ہے کہ دھوکا کھا جائے کیونکہ نفس انسانی میں حسین چیزوں کی پیروی رکھ دی گئی ہے۔ایک ہی صورت ہے جو انبیاء نے اختیار کی کہ ان چیزوں کا حسن دیکھنے کی بجائے ان کی بدی ان کو دکھائی جانے لگی ہے۔جیسے کہانیوں میں شیطان ایک بوڑھی عورت دکھائی جاتی ہے کہ جادو کی وجہ سے وہ خوبصورت دکھائی جارہی تھی لیکن جس کو خدا تعالیٰ نے بچانا ہے اس کو جیسے کہانیوں میں بیان کیا گیا ہے، وہ خدا تعالیٰ کی۔