خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 79
خطبات طاہر جلد 17 79 خطبہ جمعہ 6 فروری1998ء بھی سمجھا چکا ہوں۔شیطان کا یہ کہنا کہ تیرے بندے ضرور ناشکرے ہوں گے یہ جھوٹ نکلا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے!۔میرے بندے تو کسی حال میں ناشکرے نہیں ہوں گے تو جو چاہتا ہے کر۔اپنے گھوڑے دوڑا دے ان کے او پر لیکن اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ جو میرے بندے ہیں وہ کسی طرح تمہارے قریب میں آئیں گے۔وہ قیامت تک تم سے محفوظ رکھے جائیں گے اور میرے بندوں کے طور پر جانیں دیں گے، تمہارے بندے کے طور پر نہیں۔پس شیطان کی باتوں میں ایک فریب ہے۔اس دعوی میں بھی ایک فریب ہے کہ تیرے بندے ناشکرے ہوں گے۔خدا کے بندے تو ایسے شکر گزار ہوتے ہیں کہ کسی ابتلا میں بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے سے وہ باز نہیں آتے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کی مثالیں بہت سی دی ہیں ایک حضرت ایوب کی مثال ہے۔اتنی سخت آزمائشوں میں مبتلا کئے گئے کہ لوگ، ان کے عزیز واقارب، کہا جاتا ہے کہ گندگی کے ڈھیر پر ایسے ناسوروں کے ساتھ جسم کو چھیدا ہوا چھوڑ گئے جن میں کیڑے چل رہے تھے لیکن ایوب نے ناشکری نہیں کی۔اسی حالت میں مسلسل خدا کا شکر ادا کرتارہا۔آخر میں تیرا بندہ ہوں، شیطان نے مجھ پر آزمائش ڈالی ہے جو چاہے کر لے میں تیرا بندہ رہوں گا، تیرا ہی رہوں گا۔اس کی ایسی جزا خدا نے دی کہ وہ سب کچھ جو چھوڑ کر چلے گئے تھے وہ واپس لوٹے ،صحت بحال ہوئی۔وہ مملکت عطا ہوئی اور ہمیشہ ہمیش کے لئے قرآن میں آپ کا ذکر محفوظ کر دیا گیا۔تو ایک ایوب ہی اپنی تفصیلات کے ساتھ ، جو اس کی زندگی میں تفصیلات اس کے صبر کی ہمیں دکھائی دیتی ہیں ان پر ہی غور کر لیں تو شیطان کا یہ وعدہ جھوٹا نکلتا ہے۔مگر خدا کا بندہ بننا پڑے گا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا کا بندہ بنے اور شیطان کو سجدے کرے۔یہاں یہ مضمون الٹ جاتا ہے۔شیطان نے خدا کے بندے کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ لوگ جو بنی نوع انسان کہلاتے ہیں وہ شیطان کو سجدے کرنے لگ گئے اور اسی میں شیطان کا تکبر ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نہیں یہ تو تیرے بندے ہیں جس کو سجدہ کرتے ہیں اُس کے بندے ہیں۔پس یہ مضمون ایسا ہے جس کو خوب کھول کر اپنے ذہنوں میں حاضر کر لیں کیونکہ اسی میں ہماری آزمائش ہے اور اس آزمائش پر پورا اُترنے کا راز بھی ہمیں سکھا دیا گیا ہے۔وہ راز یہ ہے کہ اللہ کی طرف جھکیں اور خدا سے مدد چاہیں۔چنانچہ وہی آیات جن کی میں نے تلاوت کی تھی ان میں آدم اور حوا کی ایک یہ التجا ہے ربنا ظلمنا