خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 697
خطبات طاہر جلد 17 وو 697 خطبہ جمعہ 9اکتوبر 1998ء دوسرے وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت کرتے ہوئے جوانی بسر کی۔“ وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت کرتے ہوئے جوانی بسر کی، عموماً بڑھاپے میں تو عبادت کی توفیق اکثر لوگوں کو یا کئی لوگوں کو مل ہی جاتی ہے جوانی میں اگر عبادت کی توفیق ملے تو یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک امتیاز ہے۔پس وہ شخص جس کی جوانی عبادت میں کئی ہو اللہ اس پر محبت کی نگاہیں ڈالتا ہے اور جس دن کوئی اور سایہ نہ ہو اس کی یہی نیکی اللہ کے سائے کے طور پر اس کے سر پر تان دی جائے گی یعنی نیکی سایہ بن جائے گی۔تیسرے وہ آدمی جس کا دل مسجدوں کے ساتھ لگا ہوا ہے۔“ خواہ وہ بچہ ہے جو ان ہے یا بوڑھا ہے اس کا دل ہر وقت مسجد میں اٹکا رہتا ہے کہ کب نماز کا وقت ہوگا اور میں وہاں پہنچوں گا اور کوئی دُنیا کا خیال اسے مسجدوں سے غافل نہیں رکھتا یا دُنیا کے کاموں کی مشغولیت اسے مسجد سے الگ نہیں کرتی یعنی مجبوراً الگ ہو بھی جائے تو دل اٹکا رہتا ہے۔اس لئے یہ نہیں فرمایا کہ پانچوں نمازیں مسجد میں پڑھتا ہے یہ فرمایا کہ دل اس کا وہیں اٹکا رہتا ہے۔نہ بھی پڑھ سکے تو یہ خیال گزرے گا کہ اب فلاں وقت ہو گیا ہے نماز کا اگر مجھے توفیق ہوتی تو میں مسجد میں جا کر نماز پڑھتا۔وو ” چوتھے وہ دو آدمی جو اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اسی پر وہ متحد ہوئے اور اسی کی خاطر وہ ایک دوسرے سے الگ ہوئے۔“ یعنی جن کے آپس میں ملنے جلنے کا مقصد سوائے اللہ کی محبت کے اور کوئی مقصد نہیں ہے۔ان کی دوستی کا صرف اللہ ہی مرکز ہے۔اللہ کی خاطر وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔جب ملتے ہیں تو اللہ ہی کی باتیں کرتے ہیں ، جب جدا ہوتے ہیں تو اللہ ہی کی باتیں کرتے ہوئے جدا ہوتے ہیں۔یہاں یہ خاص قابل توجہ بات ہے کہ ایک دوسرے سے اسی محبت کی بناء پر جدا بھی ہوتے ہیں یعنی اللہ کی محبت کا تقاضا جہاں یہ ہو کہ اب تم الگ الگ ہو جاؤ تو پھر وہ الگ الگ ہو جاتے ہیں۔بعض صوفی منش لوگ بعض دفعه ساری ساری رات آپس میں مجلس لگائے رکھتے ہیں اور گھر میں بیوی کا خیال ہی نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت بڑی عبادت ہے۔تو آنحضور صلی ا یہی ہم نے ان تمام باتوں کی باریکیوں سے ہمیں آگاہ فرمایا ہے۔اللہ کی خاطر ملنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جب اللہ کی محبت تقاضا کرے کہ جدا ہو جاؤ