خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 627 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 627

خطبات طاہر جلد 17 627 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء جو اللہ اور رسول کی امانت کا حق ادا نہیں کرتے وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کی امانت کا کبھی حق ادا نہیں کر سکتے (خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 1998ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کیں : ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا آمَنَتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَ أَنَّ اللَّهَ عِنْدَةٌ 691 اجر پھر فرمایا: (الانفال:29،28) ان آیات کا تعلق بھی امانت سے ہے اور امانت ہی کے موضوع پر میں گزشتہ دو تین خطبات دے چکا ہوں اور اس دفعہ بھی انشاء اللہ اسی مضمون کو جاری رکھوں گا۔اگر یہ وقت سے پہلے ختم ہو گیا تو پھر انشاء اللہ دوسرا مضمون شروع ہوگا۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا آملتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُونَ۔اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ اور رسول کی خیانت نہ کرو۔وَ تَخُونُوا امنتِكُمْ وَانْتُمْ تَعْلَمُونَ : اس حالت میں کہ تم جانتے ہو کہ کیا کر رہے ہو۔یہ ترجمہ میں نے تفسیر صغیر سے پڑھا ہے اور اب میں اس کے متعلق عمومی گفتگو کر نے لگا ہوں کہ اس آیت میں کیا کیا معنی مراد ہو سکتے ہیں۔ایک معنی تو یہ ہے کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ و الرسول یعنی عمومی خطاب ہے کہ اللہ اور رسول کی خیانت نہ کرو۔وَ تَخُونُوا آمَنتِكُمُ کا ایک مطلب