خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 618
خطبات طاہر جلد 17 618 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء یہ معاملہ ایسا ہے جو معاشرہ میں نظر آتا ہے۔لوگ اس کو بہت معمولی سمجھتے ہیں اور دو طرح سے یہ باتیں ہیں جن کو نظر انداز کر کے معاشرہ میں گسن گھول دیا جاتا ہے۔اوّل تو بعض لوگ محض شوقیہ بتاتے ہیں، اپنے دوست کو بتا ئیں گے کہ مجھے کیسی اچھی بیوی مل گئی ہے یا بعض دفعہ اس کی کمزوریاں ظاہر کر دیتے ہیں کہ میری بیوی تو ایسی نکلی ہے۔دونوں صورتیں بہت گندی اور معاشرہ کو خراب کرنے والی ہیں لیکن ایک تیسری صورت بھی ہے وہ یہ ہے کہ جب تک آپس میں اکھٹار ہیں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے، کسی کو کچھ نہیں بتاتے ، جب الگ ہو جا ئیں ، طلاق ہو جائے یا ضلع ہو جائے کسی صورت میں الگ ہو جائیں تو پھر ان کو یاد آتا ہے کہ اس میں یہ اندرونی نقص بھی تھے۔چنانچہ میں ان باتوں کا ذکر نہیں کر رہا جس میں وہ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ہم سے بدسلوکی کی یا حقوق ادا نہیں کئے۔اندرونی نقائص اس میں کیا تھے۔مرد میں اندرونی نقص کیا تھا، عورت میں اندرونی نقص کیا تھا یہ باتیں وہ بیان کرتے ہیں پھر۔اور جب یہ باتیں میرے علم میں آتی ہیں تو میں ان کو کہتا ہوں کہ آپ کو کوئی حق نہیں ایسی باتیں مجھ تک پہنچانے کا جواللہ کی امانت ہیں۔آپ خیانت میں مجھے بھی شریک کر رہے ہیں۔اگر میں آپ کی باتیں سن لوں اور اس معاملہ میں ان کو ر ڈ کر کے آپ کو بھی ساتھ رڈ نہ کروں تو میں بھی خائن بن جاؤں گا۔اس لئے شادی چاہے قائم ہو یا ٹوٹ چکی ہو یہ وہ امانتیں ہیں جنہیں بہر حال ادا کرنا ہے۔کوئی بیوی اپنے خاوند کے اندرونی عیوب ظاہر نہ کرے، کوئی خاوند اپنی بیوی کے اندرونی عیوب ظاہر نہ کرے کیونکہ اللہ کی امانت ہے جس امانت کے وہ ذمہ دار ہیں اور جواب دہ ہوں گے۔پس ان باتوں کو چھوٹا نہ سمجھیں اور بہت اہمیت دیں جیسا کہ رسول اللہ صلی شمالی تم نے فرمایا کہ پھر وہ بیوی کے اسرار لوگوں میں بیان کرتا پھرے یہ قیامت کے دن سب سے بڑی خیانت سمجھی جائے گی۔یہاں مرد کا ذکر نہیں ہے مگر قرآن کریم کی بعض آیات سے دوسرا مضمون بھی ثابت ہے کہ جب تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو تو پھر تم لوگوں کو شرم کرنی چاہئے کہ ان باتوں کو کیوں لوگوں پر کھولتے ہو شاید یہ بھی وجہ ہو کہ عورتوں میں نسبتا یہ کم بیماری ہو ، مردوں میں زیادہ ہو۔ایسی بے شرمی کی باتیں عورتوں کی طبعی حیا کے خلاف ہوں اس لئے یہ ایک قسم کا Compliment بھی ہے عورتوں کو، ان کی ایک تعریف بھی ہے کہ تم سے زیادہ مردوں میں یہ نقص پایا جاتا ہے۔بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ عورتیں کہتی ہیں آپ ہمارے نقص ہی بتاتے رہتے ہیں مردوں کے نہیں بتاتے مگر اگر وہ غور سے خطبہ سنا