خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 593 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 593

خطبات طاہر جلد 17 593 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء جو شخص امانت کا لحاظ نہیں رکھتا اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کا پاس نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں (خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1998ء بمقام بیت الرشید ، ہمبرگ۔جرمنی ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: إنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بصيران پھر فرمایا: ط (النساء:59) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ یقینا اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانت ان کے اہلوں کو دیا کرو یا جو امانات کے اہل ہیں ان کو امانتیں واپس کر دیا کرو۔وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ اور جب بھی تم لوگوں کے درمیان فیصلے کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو۔إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہیں بہت ہی اچھی نصیحت کرتا ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ بہت سنے والا اور بہت جاننے والا ہے۔امانت کا مضمون وہ مضمون ہے جس کی خاطر زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا یعنی امانت خدا کے اس بندے کے سپردکرنے کی خاطر جسے اللہ تعالیٰ نے آخری طور پر چننا تھا یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی سل های یمن کو لیکن یہ مضمون بہت ہی وسیع ہے اور اس پر میں پہلے بھی کئی دفعہ بات کر چکا ہوں۔آج کے خطبہ کے لئے میں نے اس مضمون کا صرف ایک حصہ چنا ہے اور اس حصہ کی ضرورت اس