خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 586 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 586

خطبات طاہر جلد 17 586 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ہوا چلی ہوئی ہے جیسے بہار کے موسم میں کانٹے دار جھاڑیاں بھی پھول پھل لے آتی ہیں تو اس عام مہمان نوازی کے موسم میں بعید نہیں کہ وہ لوگ جو طبیعت کے نسبتا کرخت بھی ہیں وہ بھی میزبانی کے مزے لوٹ رہے ہوں اور مہمانی کا حق ادا کرنے کے مزے لوٹ رہے ہوں۔تو جب کثرت سے ایسی باتیں دکھائی دیتی ہیں تو تجزیہ کرنا پڑتا ہے اور سب سے اچھا تجزیہ ہر انسان اپنا خود کر سکتا ہے کیا یہی رنگ آپ کا بعد میں بھی جاری رہتا ہے کہ نہیں۔اگر ایثار طبیعت میں ہے تو اپنے گھر والوں سے بھی تو ایثار ہونا چاہئے ، اپنی بیوی سے ایثار کا سلوک ہونا چاہئے ، اپنے بچوں سے ایثار کا سلوک ہونا چاہئے اور جب اس پہلو سے آپ ایثار کے مضمون کا مطالعہ کریں گے تو یہ بہت پھیلا ہوا مضمون دکھائی دے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً جوبھی ان کی طرف ہجرت کرتے ہیں، یہ انصار کا ذکر چل رہا ہے اُن سے اُن کے دلوں میں کوئی تنگی نہیں ہوتی اور ان سے ان کی کوئی حاجت بھی وابستہ نہیں ہوتی اور جو کچھ ان کو ملتا ہے اس پر وہ حسد تو بہر حال محسوس نہیں کرتے مگر ان معنوں میں رشک بھی نہیں کرتے کہ ان کو بھی وہ ضرور مل جائے۔اپنے بھائیوں کو جو خدا کی راہ میں ہجرت کر کے آئے ان کو اتنا پیار سے دیکھتے ہیں، اس قدر انکسار سے ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں کہ ان کو جو کچھ بھی ملے اس پر یہ بھی خوش ہوتے ہیں گویا اپنے کومل گیا۔اور ان کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے اپنی ضرورتوں کو قربان کرتے رہتے ہیں۔یہ ایثار کی سچی تعریف ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے۔وَلَو كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ خواہ تنگی ہی کیوں نہ ہو۔پس تنگی کے حالات میں آپ کی مہمان نوازی آزمائی جاتی ہے اور جب تنگی پڑتی ہے اور تنگی صرف اپنے کو ہی نہیں بلکہ بیوی اور بچوں کو بھی تنگ کرتی ہے اس وقت کی جو مہمان نوازی ہے وہ گہرے انکسار سے عطا ہوسکتی ہے ورنہ نہیں ہو سکتی۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات میں نے چنے ہیں جو آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ ان کی تشریح کرسکوں جو آپ کو اچھی طرح سمجھ آئے۔اس مضمون کو جس گہرائی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سمجھا ہے اسے دیکھ کر انسان کا دل عش عش کر اٹھتا ہے۔فرمایا: