خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 390
خطبات طاہر جلد 17 390 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء نصیب کی تو حضرت عمر کے متعلق آج کے مفکرین بھی لکھتے ہیں کہ ایک بھی سیاسی غلطی نہیں کی آپ نے ، ساری زندگی حکومت کی ہے۔سیاسی پہلو سے اگر ہم دیکھیں ، مذہبی نقطہ نگاہ کو چھوڑ دیں جو اختلاف کا نقطہ نگاہ ہے، تو بعض چوٹی کے مبصرین نے یہ لکھا ہے کہ عمر ایک ایسا خلیفہ ہے جس کے متعلق ہم پوری چھان بین کر لیں تو یہ بات قطعی ہے کہ سیاست میں کبھی انہوں نے غلطی نہیں کی۔ایسے عظیم سیاست دان تھے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دیکھیں انہی خلفاء کے حوالے سے جو عام آدمیوں کی طرح چلتے پھرتے تھے فرما رہے ہیں یہ خیال مت کرو کہ وہ صائب الرائے نہیں تھے۔تم بھی صائب الرائے بنتے پھرتے ہو جو بعض دفعہ نظام کے خلاف سراٹھاتے ہو تمہیں کیا پتا کہ تم سے بڑے بڑے صائب الرائے تھے جو اولوالامر کے سامنے جھک گئے۔جہاں خدا نے اجازت دی وہاں پھر صائب الرائے ہونا جو ان کی صلاحیت تھی یہ بہت چکی ہے لیکن اس سے پہلے نہیں۔رسول کریم صل الا السلام کے حضور ( تو ) ان کا یہ حال تھا کہ جہاں آپ نے کچھ فرمایا اپنی تمام راؤں اور دانشوں کو اس کے سامنے حقیر سمجھا۔اور جو کچھ پیغمبر خدا صلی نا ہی تم نے فرمایا اسی کو واجب العمل قرار دیا۔ان کی اطاعت میں گمشدگی کا یہ عالم تھا۔“ اطاعت میں گمشدگی۔اب دیکھیں کتنا پیارا محاورہ ہے۔اطاعت میں گلیڈ گم ہو چکے تھے اور اتنا گم ہو چکے تھے کہ رسول اللہ سی ایم کے ہر فعل سے برکت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ یہ بھی اطاعت ہے۔یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھولا ہے کہ جو بعض عجیب و غریب حرکتیں ہمیں اس وقت دکھائی دیتی ہیں اس کی وجہ اطاعت تھی۔اتنے کامل مطیع ہو چکے تھے کہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی ا یتیم کا کوئی فعل ، کوئی حرکت بھی ایسی نہیں کہ اگر اس کو اپنانے کی کوشش کی جائے تو وہ بے فائدہ ہوگا۔ان کی اطاعت میں گمشدگی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے وضو کے بقیہ پانی میں برکت ڈھونڈتے تھے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے کسی نے بھی ان مضامین کو نہیں باندھا ہوا تھا۔بڑے بڑے مقررین بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی لہ الیتیم سے ایسا عشق تھا لیکن وہ کیا عشق تھا اس کی کنہہ کیا تھی یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں :