خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 388

خطبات طاہر جلد 17 388 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء روشنی کا یہ مطلب ہے۔پھر فرماتے ہیں: ”وہ فنا شدہ قوم تھی۔یعنی اپنے دل کی تمام نفسانی خواہشات کو مٹا بیٹھے تھے۔فرماتے ہیں کوئی قوم بھی ہو اس میں یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے یعنی اس وقت تک وہ قوم نہیں کہلاسکتی۔پھر اگلا فقرہ ہے: اگر اختلاف رائے اور پھوٹ رہے تو پھر سمجھ لو کہ یہ ادبار اور تنزل کے نشانات ہیں۔“ اللہ جماعت کو ادبار اور تنزل کے نشانات سے گلیۂ پاک رکھے لیکن یا درکھیں جب آپس کے اختلاف رائے کے نتیجہ میں پھوٹ پیدا ہو جائے اور کچھ ٹولیاں کچھ کرنا چاہیں ، کچھ ٹولیاں کچھ کرنا چاہیں تو یہ پھر تنزل کا آغاز ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے۔آسفل سفلين (التين: 6) اس کی حد ہے۔سب سے زیادہ ذلیل مخلوق خدا کے نزدیک جو بھی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ جو اطاعت سے محروم ہوتے ہیں وہ اسفل سفلین ہو جاتے ہیں۔گرتے گرتے آخری مقام تک جہاں تک انسان گرسکتا ہے گرتے چلے جاتے ہیں۔یہی حال ان لوگوں کا ہے جنہوں نے رسول اللہ سی ایم کی اطاعت کا دم تو بھر الیکن اپنی آراء کو فوقیت دے کر اپنے اندر بتوں پر بت بناتے چلے گئے یہاں تک کہ ان کا دل اس خانہ کعبہ کی طرح ہو گیا جو تو حید کا علمبردار تھا لیکن بتوں سے بھرا پڑا تھا۔ایسے ہی یہ موحد ہیں جن کے متعلق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بڑے سے بڑے موحد اور سینے بتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔پس ان بار یک باتوں پر نظر رکھیں اور ہر گز کسی بت کو توفیق نہ دیں کہ وہ آپ کے دل میں جگہ بنالے اور نشانی یہ ہے کہ اگر پھوٹ ہے، جماعت میں افتراق ہے تو قطعی علامت ہے لا ز مابت موجود ہیں۔وہاں بت شکنی کی ضرورت ہے اور بعض بڑی بڑی اچھی جماعتوں میں بعض لوگ ایسے بتوں کی پوجا کرتے اور ان کے پیغامات کو جماعت میں پھیلا کر افتراق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ابھی کل ہی مجھے ایک فیصلہ کرنا پڑا ایک جماعت کے متعلق جہاں بھری جماعت میں صرف چار ایسے افراد تھے جنہوں نے افتراق شروع کیا ہوا تھا اور سمجھتے تھے کہ ہم نیکی کی تعلیم دے رہے ہیں، ہم زیادہ بہتر سمجھتے ہیں لیکن جس طرح بھی وہ تعلیم دے رہے تھے جو بھی کر رہے تھے وہ جانتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں دل پھٹے ہیں، اس کے نتیجہ میں گروہ بندی ہوئی ہے اور یہ پہچان بت پرستی کی پہچان ہے۔اگر گروہ بندی ہوئی ہے تو وہ لوگ لازماً ذمہ دار ہیں۔بظاہر وہ توحید کی تعلیم دے رہے ہیں لیکن دراصل شرک پھیلا رہے ہیں۔