خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page iv of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page iv

2 جماعت احمدیہ کو ایک عالمی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ عدل، احسان اور ایتاء ذِي الْقُرْبی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے پہلے سے بڑھ کر ان تین صفات حسنہ پر عمل شروع کر دیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دعا سے کام لیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ دعا کے بغیر اور مقبول دعاؤں کے بغیر آج نہ ہندوستان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں نہ پاکستان کے حل ہو سکتے ہیں۔“ (خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء) 28 مئی 1998ء کو پاکستان ایک نئی ایٹمی قوت بن کر دنیا کے نقشہ پر ظاہر ہوا۔12 جون 1998ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے اس حوالہ سے جماعت احمدیہ کے کردار اور مساعی کا تفصیلی ذکر فرمایا۔حضور انور نے قیام پاکستان، کشمیر موومنٹ ، مسئلہ فلسطین اور پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے میں کلیدی کردار ادا کرنے پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب اور مکرم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی خدمات کو سراہا۔پاکستان کی نیوکلیئر افزائش کے تعلق میں ایک عالمی حیثیت قائم ہوگئی ہے اس میں اوّل کردار ایوب خان اور دوم کردار جو سائنسی کردار ہے یہ ڈاکٹر عبدالسلام نے ادا کیا۔ڈاکٹر سلام صاحب نے یورینیم کی افزائش کے سلسلہ میں ڈیرہ غازی خان میں یورینیم کے ذخائر کی دریافت کے بعد اس کو کس طرح ایٹمی توانائی کے قابل بنایا جاسکتا ہے اس کے متعلق سب سے اہم مشورے دئے اور شیخ لطیف صاحب جواحمدی سائنسدان ہیں یہ وہ سائنسدان ہیں جن کو اس کام پر مامور رکھا ہے۔بڑی خاموشی کے ساتھ ، بغیر کسی انانیت کے جذبہ کے تحت کریڈٹ لینے کی کوشش کے، انتہائی خاموشی اور اخفا کے ساتھ یہ کام کرتے رہے ہیں اور اس کی تفصیل میں یہاں بیان نہیں کر سکتا لیکن میرے پاس وہ سارے کوائف موجود ہیں۔اگر میں بیان کروں تو دنیا حیران رہ جائے گی کہ احمدی سائنسدانوں نے کتنی خاموشی کے ساتھ وہ خدمات سرانجام دی ہیں جن کے بغیر پاکستان میں نیوکلیئر افزائش کا کوئی سلسلہ ہی نہیں چل سکتا تھا۔“ خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء) حضور انور نے خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء میں مختلف ادارہ جات ، ذیلی تنظیموں، امرائے ممالک اور مبلغین کرام کو سرخ کتاب (Red Book) رکھنے اور اس کو با قاعدہ مرتب کرنے کے لئے از سر نو تحریک فرمائی۔