خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 201
خطبات طاہر جلد 17 201 خطبہ جمعہ 27 مارچ 1998ء آپ لوگ اپنے مشورہ کی طاقت کو بڑھائیں نمائندگان مجلس شوری کے لئے ضروری ہے کہ وہ نمونہ بنیں (خطبه جمعه فرمودہ 27 مارچ 1998ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرُ لَهُمُ وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ ۚ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (آل عمران :160) پھر فرمایا: b آج اس آیت کی تلاوت اس لئے کی جا رہی ہے کہ آج ربوہ میں جماعت ہائے احمدیہ پاکستان کی مجلس شوری منعقد ہو رہی ہے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ حسب سابق میں براہ راست ان کی مجلس شوری سے خطاب کروں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس شوری بغیر کسی روک کے، یعنی روک تو تھی مگر بغیر کسی انقطاع کے ، میری غیر حاضری میں اسی طرح جاری رہی ہے۔اگر چہ دقتیں تھیں اور ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ کب تک رہیں مگر مجلس شوریٰ ہر سال ضرور منائی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے تقاضے اس کی روح کے ساتھ پورے کئے گئے ہیں۔اگر چہ بعینہ وہی شکل نہیں ہے جو میرے وہاں ہوتے ہوئے ہوا کرتی تھی مگر تبد یلی حالات کے ساتھ کچھ شکل کی تبدیلی بھی ضروری تھی جو اختیار کی گئی۔