خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 173
خطبات طاہر جلد 17 173 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء کی نظر اسباب اور مکر وحیلہ پر ہے یعنی اپنے نفس کی خرابیوں سے تو بہ نہیں کرتا اور دبے ہوئے نفس کی مکروہات کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔اس کا اپنا نفس ہے جس نے اس کے گردو پیش خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔اگر کوئی ایسا شخص ہو جو سمجھتا ہو کہ میری چالاکیوں سے یہ خطرات میرے نفس کے اندر دب جائیں گے اور بیرونی اثر ظاہر نہیں کریں گے یہ مکر و حیلہ سے بچنے کی کوشش ہے۔مکر و حیلہ سے اس طرح بچنے کی کوشش سے ان کو کوئی بھی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ ان مضرات سے نقصان ضرور پہنچے گا اور چونکہ وہ اپنی آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے اس لئے اس کے گھر میں جو بھی بستے ہیں اس کے نقصان سے وہ بھی حصہ پائیں گے۔تو بعض لوگوں کو اپنی فکر نہیں اپنے بیوی بچوں کی فکر ہوتی ہے۔ان کا حوالہ دیتے ہوئے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے: سوائے اس کے کہ وہ اپنے ساتھ گھر بھر کو تباہ کر دے اور کیا انجام بھوگ سکتا ہے کیونکہ مرد گھر کا کشتی بان ہوتا ہے اگر وہ ڈوبے گا تو کشتی بھی ساتھ ہی ڈوبے گی اسی لئے کہا الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاء (النساء: 35) ( که مرد عورتوں کے اوپر قوام ہوتے ہیں ان کو سیدھا رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ایسی صلاحیتیں عطا کئے گئے ہیں کہ وہ عورتوں کو اگر وہ واقعہ الہی تعلیم پر چلیں سیدھا رکھ سکتے ہیں اور سیدھے رستے پر چلا سکتے ہیں۔) اُسی کی رستگاری کے ساتھ اُس کے اہل وعیال کی رستگاری ہے۔(اگر اللہ تعالیٰ آزادی کے، بھلائی کے سامان پیدا نہ کرے تو اس کے اہل و عیال کی بھلائی کے سامان بھی پیدا نہیں ہوسکتے۔) وَلَا يَخافُ عُقْبَهَا (الشمس: 16 سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کو اُن کے پس ماندوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے (اور ) اُس وقت اُس کی بے نیازی کا م کرتی ہے۔“ (البدر جلد 3 نمبر 27 صفحہ: 4 مؤرخہ 16 جولائی 1904ء) وَلَا يَخَافُ عُقبها میں یہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ کو گویا ان کی ہلاکت کی کوئی بھی پرواہ نہیں۔یہاں بھی جو اس آیت کا سیاق و سباق جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وَلَا يَخَافُ عُقُبُهَا ان نفوس کے متعلق فرمایا گیا ہے جو اپنے نفس کو نیچے اتارتے ہیں اور دبا کر ان کی بدی سے بچنے کی کوشش اس طرح کرتے ہیں کہ وہ بالکل اندر دب جائے اور اس کا کوئی شہر بھی باہر نہ نکلے حالانکہ نفس کو جتنا چاہیں دبا ئیں اس کی خیر بھی باہر نکلتی ہے، اس کا شر بھی باہر نکلتا ہے۔تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے