خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 942 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 942

خطبات طاہر جلد 16 942 خطبہ جمعہ 26 دسمبر 1997ء کے باوجود پھر بھی فراموش ہو جایا کرتے ہیں۔فَذَكِّرْ اِن نَفَعَتِ الذِّكْرَى (الاعلی : 10) میں جو یہ نصیحت ہے کہ زور سے اور بار بار نصیحت کیا کر کیونکہ ایسا نصیحت کرنا جو بار بار ہو بہت فائدہ پہنچاتا ہے۔پس اس پہلو سے اگر چہ آپ میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جنہوں نے پہلے بھی یہی مضمون سنا ہوگا مگر ایک بڑی تعداد نئے آنے والوں کی بھی ہے جو کثرت کے ساتھ گزشتہ رمضان کے بعد جماعت میں داخل ہوئے ہیں ان کا بھی حق ہے کہ ان کے سامنے بھی یہی باتیں دہرائی جایا کریں۔دوسرے، چھوٹے بچے بڑے ہورہے ہیں۔پھر بسا اوقات بعض لوگ جمعہ میں آنہیں سکتے یا پہلے، پچھلے رمضان پر ڈش انٹینا کا نظام اتنا عام نہیں تھا جتنا اب ہو چکا ہے تو یہ سارے امور ایسے ہیں کہ اگر آپ سمجھیں کہ آپ کو ان باتوں کا علم ہے تو پھر بھی تسلی رکھیں کہ اکثر ایسے ہیں جن کو ضرورت ہے اور جو سمجھتے ہیں ان کو علم ہے ان کا یہ وہم ہے کہ ان کو پوری طرح علم ہے۔جب مضمون شروع ہوگا تو آپ سمجھ جائیں گے کہ اس علم کو بار بار دہرانے کی ضرورت ہے تا کہ یہ دلوں کی گہرائیوں تک اترے۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ رمضان کا مہینہ أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ کا ایک ترجمہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔هُدًى لِلنَّاسِ ہدایت ہے لوگوں کے لئے وَبَيِّنَتِ مِنَ الْهُدى اور ہدایت میں سے بھی ایسی کھلی کھلی روشن ہدایات کہ جو ظاہر و باہر ہوں۔وَالْفُرْقَانِ اور فرقان بھی ہے یعنی اپنے اندر بڑے مضبوط دلائل رکھتا ہے۔اسی آیت کا دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ یعنی رمضان کا مہینہ تو وہ ہے جس کے بارے میں قرآن اتارا گیا ہے۔جہاں تک پہلے ترجمے کا تعلق ہے عموماً مفسرین یہ بیان کرتے ہیں کہ رمضان میں قرآن اتارا گیا“ سے مراد یہ ہے کہ رمضان میں پورا قرآن اتارا جاتا تھا۔یہ درست نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم تو آہستہ آہستہ نازل ہوا ہے اور سوائے اس کے کہ اس رمضان میں جس میں پورا قرآن مکمل ہو چکا تھا سارا قرآن دہرایا جاہی نہیں سکتا۔دوسرے، رمضان بہت بعد میں فرض ہوا ہے اور قرآن تو نبوت کے پہلے دن سے اتارا جا رہا ہے اس کا رمضان سے کیا تعلق ہوا۔اس لئے یہ کہنا کہ رمضان میں اتارا گیا یہ اس پہلو سے درست نہیں بنتا۔رمضان میں کثرت کے ساتھ جو کچھ اتر اتھاد ہرایا جاتا تھا۔أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ کا ایک معنی یہ لیا جا سکتا ہے جو درست ہے کہ جتنا قرآن بھی نازل