خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 807
خطبات طاہر جلد 16 807 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء روپے کو چھوڑ میں کیونکہ اس کی قیمت گرگئی ہے۔لوگ کہیں گے کہ آپ گری ہوئی قیمت کے روپے کو اضافہ بتا رہے ہیں اس لئے میں اس کا ذکر ہی نہیں کرتا۔ذکر تو کیا ہے لیکن مختصر۔جو دنیا کی ویلیوز (Values) یعنی ان کے روپے کی قیمتیں ہیں ان میں ڈالر اور پاؤنڈ کی قیمتیں باوجود گر نے کے اپنی ذات میں مستحکم ہیں اور جو فرق پڑا ہے وہ پاکستانی روپے کے مقابل پر بہت کم فرق پڑا ہے۔تو اس پہلو سے جہاں تک مجھے یاد ہے ساری دنیا کا چندہ سولہ لاکھ پاؤنڈ نہیں تھا جو آج تحریک جدید کا چندہ ہے یہ پاؤنڈوں میں ہے۔گزشتہ سال کے مقابل پر یہ وصولی پندرہ لاکھ کی نسبت سولہ لاکھ چونسٹھ ہزار ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ سال کے مقابل پر ایک لاکھ چھپن ہزار کا اضافہ ہے۔اس اضافے کا سب سے بڑا سہرا امریکہ کے سر پر سجتا ہے۔امریکہ نے وقف جدید میں آگے بڑھنے کا وعدہ کیا تھا وہ پورا کر دیا۔پھر جب تحریک جدید میں سنتے تھے کہ جرمنی آگے ہے، پاکستان آگے ہے، فلاں آگے ہے تو ان کو یہ ایک مہمیں لگتی تھی جیسے گھوڑے کو ایڑ لگائی جاتی ہے۔چنانچہ ایم ایم احمد صاحب نے مجھے کہا کہ اس دفعہ ہم کوشش کریں گے کہ تحریک جدید میں بھی آگے بڑھیں۔تحریک جدید میں ان کا آگے بڑھنے کا انداز یہ ہے کہ ساری دنیا کو اتنا پیچھے چھوڑ گئے ہیں کہ اب ان کے لئے خیال بھی نہیں آ سکتا کہ ہم آگے بڑھ کر ان کو پکڑ لیں۔دو سال پہلے ان کی کل وصولی دولاکھ پچھتر ہزار تھی اب چھ لاکھ چوراسی ہزار ہو چکی ہے تو ان دو سالوں میں بہت دوڑ لگائی ہے انہوں نے اور ماشاء اللہ جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم امریکہ کو پکڑ سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اور بھی زیادہ آگے بڑھنا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے اور ہم سب کی طرف سے ان کو مبارک باد ہو۔سب سے آگے بڑھنے والا گھوڑا نکلا۔پاکستان نے بھی ترقی کی۔ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ جرمنی کو تو ہم نے پیچھے کر کے چھوڑنا ہے آخر کر دیا اور اب اللہ کے فضل سے اتنی ترقی ہے اس دو سال کے اندر کہ جرمنی ان سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔مگر جرمنی سے اس کا شکوہ نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس جماعت کے اور بے حد اخراجات ہیں تبلیغ کے اور دوسرے اور وہ متوازن قدم بڑھا رہے ہیں مگر ان کی اتنی توفیق ہے ہی نہیں کہ وہ اس مقابلے میں اب شامل ہوسکیں۔تحریک جدید میں امریکہ اور پاکستان دونوں نے ان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔مجموعی وصولی کے لحاظ سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے امریکہ اول ، پاکستان دوم،