خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 669
خطبات طاہر جلد 16 669 خطبہ جمعہ 5 ستمبر 1997ء صلى الله تک اس مباہلے کا تعلق ہے جو تو نے میری طرف بھیجا ہے تو یا درکھ کہ مجھے کچھ خوف نہیں میں جمہور عوام کے سامنے اعلان کروں کہ اللہ کو اپنے اور احمدیوں کے درمیان ہاں اپنے اور احمدیوں کے درمیان حکم بنا تا ہوں تا وہ حق کو ثابت کر دے اور باطل کو باطل۔وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ (انفال : 9) میں یہاں اس وقت اعلان کرتا ہوں، ہاں میں یہاں اعلان کرتا ہوں کہ جو میں کہہ رہا ہوں اس پر مجھے پورا یقین اور وثوق ہے نیز مجھے پورا پورا یقین ہے کہ جو کچھ بھی خدا نے اپنے رسول کے بارے میں کہا ہے وہ سب سچ ہے جو کچھ اس کے رسول نے اپنے بارہ میں کہا ہے وہ بھی برحق ہے۔بالکل ٹھیک ہے اس پہ ہم بھی صاد کرتے ہیں لیکن بکو اس انگلی یہ ہے جو کچھ مرزا غلام احمد نے کہا ہے وہ جھوٹ اور رسول اللہ پر افتراء ہے۔یہ مباہلے کا چیلنج اس نے بائیس اگست میرے جرمنی کے دورے کے دوران اپنا منظور کیا اور اس سے اگلے خطبے میں بہکی بہکی باتیں شروع کر دیں احمدیت کا نام لینا چھوڑ دیا اور اب جو اس کی باتیں پہنچ رہی ہیں وہ اس کے لئے Too late کیونکہ اب جو باتیں ہمیں پہنچ رہی ہیں ہمارے وہاں کے واقف کاروں کے ذریعے وہ یہ ہیں کہ اپنی مجلس میں یہ کہ رہا ہے کہ مجھے پاگل بنایا گیا ہے مذہبی امور کے وزیر نے جھوٹ بولے، مجھے دھوکے میں رکھا اور اس مباہلے یہ مجھے آمادہ کیا گیا حالانکہ اب جو میں حالات دیکھ رہا ہوں وہ مختلف ہیں، وہ خود بھی بھاگ گیا ان باتوں سے۔میں اب گویا کہ آخری بات کہ رہا ہوں احمدیوں کے متعلق میری زبان بندی ہوگئی ہے اور اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو اس کی طرف سے ہمیں پہنچ رہی ہیں لیکن میں مزید ثبوت اکٹھے کروا رہا ہوں اور وہاں کے تحریری بیان وغیرہ یہ انشاء اللہ تعالیٰ بعد میں آپ کے سامنے اس مباہلے کے انجام کے متعلق تازہ ترین صورت حال پیش کی جاتی رہے گی۔اس خطبہ کے ذریعے جیسا کہ میں نے آپ سے بیان کیا تھا یہ اعلان کر رہا ہوں کہ اب ان چند شیطانی ٹولے کے آدمیوں کو اور گیمبیا کے ٹیلی ویژن کو جو بھی اس کی اہمیت ہے اس کے جواب میں ساری دنیا اب ان کی باتیں سنے گی۔ایک ایک اعتراض جو امام نے بیان کیا ہے اس کو میں انشاء اللہ لقاء مع العرب میں اور دوسرے پروگراموں میں اب پیش کرتا رہوں گا اور پورا پس منظر جو میں نے ابھی بیان نہیں کیا بہت سی باتیں ہیں جو پیش ہونے والی ہیں وہ بھی انشاء اللہ آپ کے سامنے پیش کروں گا۔اس وقت میں سر دست یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب اس نے مباہلہ قبول کر لیا تو میں نے