خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 667
خطبات طاہر جلد 16 667 خطبہ جمعہ 5 ستمبر 1997ء ذہن پر لعنت ہے کہ اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر اپنی طرف سے افریقہ میں دخول کا ایک طریقہ ایجاد کیا گیا جس کو ہرگز کامیابی نہیں ہو سکتی۔یہ پتھر کی دیوار سے سر ٹکرا ئیں کبھی اس بات میں کامیاب نہیں ہوں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ اور میں بتا رہا ہوں کہ ان کی یہ کوششیں ، ویڈیو کا اب ہم ترجمہ کروا کر مشتہر کروائیں گے ساری دنیا میں اور اب ایک بات آپ کو بتا تا ہوں۔اب یہ مباہلہ بھی ہو گیا اب یہ ہماری جد و جہد جس کو کہتے ہیں لڑائی ON ہے اب۔تو اب یہ چل پڑی ہے۔ان کا ٹیلی ویژن جو کچھ بھی بکواس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے متعلق کرتا رہا ہے اور کرے گا یہ چند گنتی کے آدمیوں تک پہنچے گی مگر MTA کے ذریعے ساری دنیا ان کے چہرے دیکھے گی اور ساری دنیا کو ان کی گندگی اور ان کے پس منظر سے آگاہ کیا جائے گا اس لئے آپ بالکل مطمئن رہیں، خوش رہیں آپ کا کچھ بھی نہیں بگڑا نہ کوئی بگاڑ سکتا ہے۔اہل گیمبیا آپ کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپوزیشن کو ہم نے ہرگز نہیں کہا کچھ بھی لیکن ان کے سربراہ نے اعلان کیا کہ یہ گیمبیا کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے لوگ ہیں اس لئے ہم پر چھوڑیں ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے آپ کو آرام سے بیٹھنا چاہئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہاں جماعت احمدیہ کا سوال نہیں ہے یہاں گیمبیا کی عزت پر ان بد بختوں نے ہاتھ ڈالا ہے اور ہمیں بے حیا کر کے دکھایا جارہا ہے کہ سینتیں سال سے جماعت نے ایسی خدمات کیں جو ان کو خود اعتراف ہے کہ بڑی بڑی حکومتیں نہیں کرسکتی تھیں اور بے لوث اور ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ احمدیوں کی سینتیس سالہ خدمت کے دوران احمدیوں کے خلاف کسی قسم کی قتل کی دھمکی بھی ملی ہو۔تو پاکستان کی نقالی تو کر رہے ہیں یہ بندر لیکن پاکستان کے حالات ہی مختلف ہیں۔وہاں ظلم و ستم ہورہے تھے بار بارتحریکیں چلتیں، احمدیوں کے اوپر بے انتہاء ہر قسم کے ظالمانہ حملے کئے گئے، قتل و غارت ہوئے معصوم عورتوں کی جانیں لی گئیں، بچوں کو قتل و غارت کیا گیا ، زندہ جلائے گئے لوگ۔کہاں پاکستان کے بدبخت حالات اور کہاں گیمبیا کی سرزمین جو شرافت کی علمبر دار ہے۔ان کے جو گیمبیا کے تاثرات ہیں وہ میں پھر انشاء اللہ بعد میں کسی اور وقت میں بتاؤں گا۔بہر حال امام فاتح کو میں نے بار بار جماعت سے کہا کہ اس کو کسی طرح آمادہ کریں کہ یہ مباہلہ منظور کرلے کیونکہ مجھے یہ کرتھی کہ یہ دھوکہ بازی کرتے رہیں گے ، شرارت بھی کریں گے اور مباہلے کی زد سے بھی بچنے کی کوشش کریں گے۔پس الحمد للہ وہ رات جو میں نے کہا مجھ پر چین سے آئی وہ 22 راگست 1997 ء کا خطبہ ہے