خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 665

خطبات طاہر جلد 16 665 خطبہ جمعہ 5 ستمبر 1997ء نمائندے نے یہ کارروائی ریکارڈ کی ہے وہ اپنی زبان میں کیمپین زبان میں ریکارڈ کی ہے اور گیمبیا کے ٹیلی ویژن سٹیشن کو گنتی کے لوگ دیکھتے ہیں، کچھ غربت کی وجہ سے، کچھ سٹیشن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے تو ان کو دکھانے کے لئے کہ ہمارا امام کتنے عظیم الشان کام کر رہا ہے اور سعودی عرب میں اس کی کتنی عزت ہے اس ساری کارروائی کو اس نے ٹیلی وائز کیا ہے اور وہ ٹیلی ویژن کی وڈیو ہمارے پاس ہے اس کا ایک ایک لفظ ہمارے سامنے ہے۔میں اس لئے بتارہا ہوں کہ ان کو یہ دھوکہ نہر ہے کہ یہ سنی سنائی باتیں ہیں۔اس نے خوش آمدید کہا۔اس امام نے انتخاب کے نتائج پر صدر کو مبارکباددی اور اہل گیمبیا کو سلام پہنچایا۔طواف اور سعی کے بعد یہ مدینہ ایئر پورٹ پر پہنچے تو سعودی حکام اور امام نے استقبال کیا اور جہاز سے انتظار گاہ تک طویل ریڈ کارپٹ ان کے لئے بچھایا گیا۔مسجد نبوی میں اب یہاں سے انتہائی شدید گستاخی اور بد تمیزی شروع ہو جاتی ہے اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر۔مسجد نبوی میں ظہر کی نماز کے لئے انہیں امام کے عین پیچھے پہلی صف میں کھڑا کیا گیا صرف یہ تھے جن کے آگے ان کی تسبیح سامنے سجدہ گاہ کے اوپر پڑی ہوئی تھی باقی سب اسلامی طریقے پر بغیر کچھ سامنے رکھے نماز پڑھ رہے تھے۔نماز کے بعد تبصرہ نگار کہہ رہا ہے اب یہ اس کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔امام جامع کا مقام۔تبصرہ نگار کہہ رہا ہے اس وقت صدر جامع منبر رسول ﷺ پر کھڑے نفل پڑھ رہے ہیں۔انا لله وانا اليه راجعون۔ان کے کردار کی باتیں میں بعد میں بتاؤں گا۔ان کے لئے تو منبر رسول پر نظر ڈالنا بھی گناہ ہے جس کردار کے یہ مالک ہیں لیکن سعودی عرب کو ان کے کردار سے کوئی بھی غرض نہیں تھی ان کی اپنی حالت کس قسم کے انسان میں کیا ان کا چھ چا گیمبیا میں ہواہے کیسے کیسے قتل میں ملوث ہونے کی کیمبین باتیں کر رہے ہیں۔ہم نہیں کر رہے سیمبین باتیں کر رہے ہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے وہ بچی ہیں یا غلط لیکن بعض ثبوت میرے پاس موجود ہیں ان باتوں کی تائید میں جو تحریری ثبوت ہیں جو میں ابھی منظر عام پر نہیں لانا چاہتا۔اتنا مجھے علم ہے کہ ایک گندے بے ہودہ کردار کا گھٹیا انسان جو رسول اللہ لہ کے منبر پر قدم رکھنا تو در کنار اسے دیکھنے کا بھی اہل نہیں ہے اس کے متعلق سعودی عرب کیا کر رہا ہے سینے۔اس وقت وہ منبر رسول پر کھڑے نفل پڑھ رہے ہیں اور ان کی پچھلی لائن میں ان کے قافلے والے ہیں جیسے