خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 539
خطبات طاہر جلد 16 539 خطبہ جمعہ 18 جولائی 1997ء فورس یہ سیکیورٹی کے لئے یا حفاظت کے لئے بہت ہی ضروری ہے اور اس کے بغیر حفاظت کرنے والے محض دکھاوا ہو جاتے ہیں اور دکھاوے کے خلاف جیسا کہ میں نے آیت کریمہ پڑھی ہے خدا تعالیٰ بڑے زور سے مومنوں کو متوجہ فرماتا ہے کہ ہرگز کسی طرز پر بھی دکھاوا نہیں کرنا۔میں اب امریکہ اور کینیڈا جب گیا تھا تو ان سے میں نے درخواست کی تھی کہ بہت سے دوستوں کو میں دیکھ رہا ہوں جو دوسری طرف منہ کر کے کھڑے ہیں ان بے چاروں کو یہ بھی توفیق نہیں مل رہی کہ مجھے دیکھ لیں۔سارا سال انتظار کرتے ہیں اور پہرے کی وجہ سے مجھے دیکھنے ، ملنے سے محروم بیٹھے ہیں۔ضرورت سے زیادہ آدمی اور ڈنڈوں کی طرح نصب ہوئے ہوئے ، دوسری طرف منہ کئے ہوئے۔وہ خود ایک سیکیورٹی ٹارگٹ ہیں جس کو انگریزی میں Sitting Duck Target کہتے ہیں وہ تو ایک مرغابی کی طرح بیٹھے ہوتے ہیں جو چاہے ان کو نشانہ بنائے ، انہوں نے کیا حفاظت کرنی ہے۔مگر عام حالات میں پہرے کے لئے آپ کو زیادہ سے زیادہ غیر معروف پہرے داروں کی ضرورت ہوتی ہے جو عام لوگوں میں ملیں جلیں پھریں اور ان کو کوئی پہچانے نہ کہ یہ کون ہیں اور دوسری بات اس میں ضروری ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ مختلف ممالک کے دوستوں کو اس نظام سے وابستہ کریں جہاں صرف میزبان نہیں بلکہ مہمان بھی میزبانوں کی طرح خدمت سرانجام دیں گے کیونکہ بہت سے پاکستان، بنگلہ دیش کسی اور ملک سے آنے والے ایسے ہوں گے جن کو یہاں کی انتظامیہ نہیں جانتی اور وہاں کے لوگ جانتے ہیں۔اس لئے حفاظتی نظام میں لازمی ہے کہ اس کو ایک عالمی نظام کا مظہر بنایا جائے۔اس میں ہر قسم کے ایسے دوست شامل ہوں جو مختلف ملکوں سے آنے والے ہوں۔اگر کسی بنگالی کا مسئلہ در پیش ہو تو کوئی بنگالی نظام کا حصہ لینے والا وہاں موجود ہو۔اس کو بھیجا جاسکتا ہے وہ پتا کرے کہ یہ کون صاحب ہیں۔اگر کوئی افریقن ہے گھانا کے ہیں تو گھانا کے کچھ دوست اس نظام سے منسلک ہونے چاہئیں۔پاکستان کے مختلف علاقوں سے کچھ نہ کچھ آنے والے مہمانوں کو تکلیف دی جاسکتی ہے کہ وہ اس نظام سے منسلک ہوں۔ربوہ میں ہم یہی کیا کرتے تھے سارے پاکستان سے آنے والی جماعتوں، دنیا کا تو نہیں مگر سارے پاکستان سے آنے والی جماعتوں کو اس نظام میں ملوث کیا کرتے تھے اور اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے فضل سے کہیں سے بھی کوئی آنے والا ہو اس کو پہچاننے والا کوئی نہ کوئی موجود ہوتا تھا۔