خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 480
خطبات طاہر جلد 16 480 خطبہ جمعہ 27 / جون 1997 ء ہو بھی جاتا ہے مگر میرا تجربہ ہے کہ ایسا جھوٹ جو لمبا فائدہ پہنچانے والا ہے وہی لمبا نقصان بھی پہنچایا کرتا ہے کیونکہ تا شیریں خدا تعالیٰ نے اسی طرح رکھی ہیں۔پس قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ تمہاری لغو قسموں کی پرواہ نہیں کرتا لیکن وہ قسمیں جن میں تمہارا ارادہ داخل ہو جن میں وضاحت کے ساتھ تم جانتے ہو کہ یہ جھوٹ ہے اور پھر جھوٹ بول رہے ہو ان پر اللہ تعالیٰ تمہاری پکڑ کرے گا۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ دنیا کے زہر تو اپنے مزاج کو سچا ثابت کر دکھائیں ، ان میں تو پکڑ کا مادہ ہو مگر وہ زہر جن کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ ان پر ضرور تمہاری پکڑ ہوگی وہ اپنی پکڑ نہ دکھا ئیں، یہ ممکن ہی نہیں ہے۔بعض زہر گھل جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ نقصان پہنچاتے ہیں۔بعض زہر پھر آگے نسلوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ان بچوں کا کیا قصور تھا لیکن قانون قدرت ہے کہ بعض زہروں میں یہ تاثیر ہے وہ لمبا چلنے والے ہیں، وہ نسلوں میں بھی داخل ہو جاتے ہیں۔پس گناہ میں بھی لمبا چلنا اور نسلوں میں داخل ہونا اس کے مزاج میں شامل ہے اور جھوٹ سب سے بڑا گناہ ہے۔اگر آپ نے جھوٹ سے توبہ نہ کی تو پھر آپ کی سوسائٹی میں پاک تبدیلی پیدا نہیں ہوسکتی۔پس سب سے پہلے تو لوگوں کے جھوٹ آپ کو بتا تا ہوں وہ کیوں جھوٹ بولتے ہیں۔اس لئے کہ وہ جھوٹ سے یہ فائدہ وابستہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے سمجھے جائیں گے اور کوئی مقصد نہیں ہوتا۔اگر کسی نے ایک بھی بیعت نہیں کروائی تو نہ کروائی ہو ہم اس کو برا تو نہیں سمجھتے ، اس کو کمز ور سمجھتے ہیں، اس پر رحم کرتے ہیں اس کو توجہ دلاتے ہیں مگر وہ شخص جس نے ہمیں بیعتیں کروا کے خوشنودی حاصل کی ہو دو طرح سے شرک کرتا ہے۔ایک یہ کہ جھوٹ بولا اور جھوٹ اپنی ذات میں شرک ہے اور دوسرا یہ کہ بندے کو خوش کرنے کی خاطر خدا کو ناراض کر لیا ہے۔ایسے لوگوں کے جو بڑے ہیں یعنی بڑے سے مراد نظام جماعت میں بڑے ہیں امیر ہو یا جو بھی ہو اس کو خوش کرنے کی خاطر آپ کہتے ہیں دیکھوجی ہم نے یہ کام کیا ہے یا مجھے خط لکھ دیتے ہیں اور ساتھ دعا بھی لکھتے ہیں کہ دعا بھی کریں ہمارے لئے ہم نے بڑا اچھا کام کیا ہے اور انہی میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے وہ کام نہیں کیا ہوتا یعنی حقیقت میں نہیں کیا ہوتا تو نہ میری دعا ان کے کام آسکتی ہے نہ ان کی اپنی دعا ان کے کام آسکتی ہے کیونکہ وہ بندے کو خوش کر رہے ہیں اصل میں۔پس جھوٹ میں یہ بات داخل ہے کہ جھوٹ کے نتیجے میں انسان