خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 458 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 458

خطبات طاہر جلد 16 458 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء تمہیں تو خدا نے اتنے اچھے اچھے کھانے ، اتنے اچھے اچھے رزق عطا فرمائے ہیں مگر ساری دنیا پر نظر ڈال کے دیکھو، سمندروں کی گہرائیوں میں بھی رزق مقرر ہے۔اڑنے والے پرندوں کے لئے آسمان کی بلندیوں تک جو جاتے ہیں ان کے لئے بھی رزق مقرر ہے۔کوئی کائنات میں ایسا جاندار نہیں جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے رزق کے سامان نہ فرمائے ہوں اور اس پر اگر آپ غور کریں تو حیران رہ جاتے ہیں۔ان کو سمجھانا پڑتا ہے۔چنانچہ اپنے گھر میں بچوں کو بعض دفعہ میں سمجھاتا ہوں کہ باہر نکل کے دیکھو پرندے صبح اٹھتے ہیں ان کو کوئی پتا نہیں کہ کہاں سے کیا ملے گا۔کوے اٹھتے ہیں اور چہچہانے والے چھوٹے چھوٹے پرندے صبح کے وقت بیدار ہو جاتے ہیں۔پانی پہ بیٹھنے والے پرندے ہیں ان کو پتا نہیں مچھلی کہاں ہے۔ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ رزق کے سامان فرمائے ہیں بلکہ سامان حاصل کرنے کے ذریعے بھی بیان فرمائے ہیں، ان کے اندر ودیعت کر دیئے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ایک جھیل پر Seagulls اڑ کے اتر رہی تھیں بار بار ایک جگہ، میں نے ساتھ مسافروں کو سمجھایا۔میں نے کہا دیکھو یہ Seagulls جو دیکھ رہی ہیں وہ تمہیں دکھائی نہیں دے رہا۔تم ڈھونڈ رہے ہو، مچھلیوں کے لئے راڈیں (Rods) پکڑی ہوئی ہیں اپنی ، کہ کہاں مچھلیاں ہیں اور کچھ پتا نہیں لیکن ان کو خدا تعالیٰ نے نہ صرف وہ آنکھ دی ہے جو پہچانتی ہیں مچھلیوں کو بلکہ جب ان پر گرتی ہیں تو بعینہ نشانے پر گرتی ہیں اور دیکھو جو بھی نیچے جاتی ہے کچھ اٹھا کر اوپر نکلتی ہے۔کیسا کیسا قدرت نے رزق کا سامان مقرر فرمایا ہے۔تم بھول جاتے ہو اس بات کو کہ جو ناشتہ تم کر رہے ہو، جو کھانا تم کھا رہے ہو اس کے لئے خدا نے قانون قدرت میں کتنی دیر سے سامان بنارکھے ہیں۔تو وہ ماں باپ جو تمہیں کوئی اچھا ناشتہ دیتے ہیں یا کوئی دوست دعوت کرتے ہیں کسی ک چائنیز کھانا پسند ہے تو ہوٹل میں لے جاتے ہیں دیکھو کتنا دل چاہتا ہے ان کا شکریہ ادا کرنے کو اور جتنا شکر یہ ادا کرتے ہو تمہیں بھی مزہ آتا ہے، جس کا شکر یہ ادا ہو رہا ہے وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے خرچ کیا تھا اس کو خرچ میں مزہ آنے لگتا ہے تو تم نے کبھی سوچا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے سارے سامان کر رکھے ہیں اور وہ نہ کرے تو کچھ بھی باقی نہ رہے۔ایک پانی پر ہی غور کر کے دیکھ لو کہ قرآن کریم فرماتا ہے اللہ تعالیٰ بندوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر ہم پانی کو گہرائی میں لے جائیں تو کون ہے جو اسے نکال سکے۔امر واقعہ یہ ہے کہ