خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 456
خطبات طاہر جلد 16 456 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء نہیں کر سکتے۔پس احسن کے ذریعے بدی کو دور کریں اچھی چیز پاس ہے تو وہ دیں تا کہ بدی اس سے نکل کر دور بھاگے اور اچھی چیز میں یہ خوبی ہوا کرتی ہے یعنی اچھی چیز کا اچھادیکھنا ضروری ہے یہاں جا کر فرق پڑ جاتا ہے۔جب آپ کے بچے اچھی چیز کو اچھا نہیں دیکھتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آپ سے ڈرے ہوئے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں ماں باپ کا خیال ہے کہ اچھی ہے جب تک ہم ان کے قبضہ قدرت میں ہیں ہم بھی اچھا کہیں گے اس کو اور جب نکلیں گے تو پھر جو ہماری مرضی کریں گے لیکن اچھے کو اچھا دکھانے کے لئے وہ تجربے ضروری ہیں جو میں نے آپ کے سامنے بیان کئے ہیں۔اچھی چیزوں کی لذت دل میں پیدا کریں اور میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ صرف بحیثیت خلیفہ باقی بچوں کی تربیت میں اس سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے بچوں کی تربیت میں ہمیشہ اس سے کام لیا ہے اور اللہ کے فضل کے ساتھ جب ان کو نیکیوں سے محبت پیدا ہوئی تو اب مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میں کہاں ہوں۔اپنے گھروں کی تنہائیوں میں، اپنے بچوں میں جہاں بھی وہ ہیں ان کو بچپن ہی سے نیکیوں سے پیار ہو چکا ہے اور وہ اس سے الگ نہیں ہو سکتے۔پس آپ اپنے بچوں کو بچپن ہی میں وہ اہمیت دیں جس کے وہ مستحق ہیں، ان سے بڑوں کی طرح باتیں کریں ان کو سمجھا ئیں اور ساتھ لے کر چلیں۔اس ضمن میں خود اعتمادی کے علاوہ بعض اور باتیں ہیں جواب بیان کرنا ضروری ہیں۔مثلاً عبادت کا فلسفہ بچپن ہی سے ان کو سمجھانا ضروری ہے۔میں نے یہ کہا کہ جب آپ ان کے دل میں نیکی کا پیار پیدا کر دیں، دل میں یقین بھر دیں کہ ہاں یہ اچھی چیز ہے وہ اس سے چھٹے رہیں گے مگر یہ کہنا اس تحدی کے ساتھ جائز نہیں کیونکہ بہت سے ایسے بچے بھی میں نے دیکھے ہیں جن کے ماں باپ نے پوری محنتیں کیں لیکن ماں باپ دنیا سے رخصت ہوئے پھر وہ اس دنیا میں پڑ کر کہیں سے کہیں سرکتے ہوئے چلے گئے۔ایک چیز ہے جو ہمیشہ ان کی محافظ رہ سکتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہے اور عبادت کے فلسفے میں خدا کی محبت کا فلسفہ داخل کرنا لازم ہے کیونکہ اس کے بغیر حقیقت میں عبادت کے کوئی بھی معنی نہیں۔پس بچپن ہی سے نیکیوں سے پیار کے ساتھ ساتھ اس وجود سے پیار پیدا کرنا ضروری ہے جو نیکیاں سکھانے والا ہے اور اس میں سب سے اہم انسانوں میں آنحضرت ﷺ ہیں اور پھر اس کے بعد عبادت کا فلسفہ جو آنحضور ہے کے حوالے ہی سے بیان کیا جائے گا اور اس بات کو اگر بچے سمجھ لیں