خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 452 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 452

خطبات طاہر جلد 16 452 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء محسوس فرمایا اور اتنا محسوس کیا کہ اس کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔پس عادت ایک ایسی چیز ہے جو دونوں جگہ ہے۔چور بھی عادی ہو جاتا ہے، قاتل بھی عادی ہو جاتا ہے، سمگلنگ کرنے والا بھی عادی ہو جاتا ہے، گھروں میں ڈاکے ڈالنے والا بھی عادی ہو جاتا ہے مگر اس کی عادت لازماً دوسروں کو نقصان پہنچاتے پہنچاتے اس کی اپنی ذات میں ایک نقصان کے طور پر جمع ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ وہ دن بدن خود اپنی نظر میں بھی گرتا ہے، سوسائٹی کی نظر میں بھی گرتا ہے مزید بدی کے بغیر اس کو مزہ نہیں آسکتا۔بدی سے جو مزہ ملتا ہے وہ دائمی نہیں ہوتا چند دن میں ختم ہو جاتا ہے اور ایسی صورت میں اس کی روح بھی ان باتوں سے متاثر ہوتی ہے اور جس کو ہم جہنم کہتے ہیں وہ اسی چیز کا دوسرا نام ہے۔ہر انسان جو بدیوں میں ملوث ہو اپنی روح کے لئے ایک جہنم پیدا کر رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی فلسفے کو یعنی سارا اسی فلسفے پر مبنی تو کتاب نہیں مگر اسلامی اصول کی فلاسفی میں اسی فلسفے کو ، اس کتاب کے مضامین کے ایک حصے کے طور پر پیش فرمایا ہے۔بہت سے لوگ پڑھیں بھی تو پوری طرح سمجھتے نہیں مگر امر واقعہ یہی ہے کہ آج اس دنیا میں ہم آئندہ دنیا کے لئے جنت اور جہنم بنا رہے ہیں اور بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ تم جو کچھ بھی کرو گے اس سے کچھ فائدہ بھی اٹھاؤ گے اور کچھ نقصان بھی لیکن جو نقصان تم خود کسی اعلیٰ قدر کی خاطر اٹھاتے ہو اس نقصان میں مزہ ہے اور اس نقصان میں باقی رہنے والا مزہ ہے۔پس آپ اپنے بچپن کی طرف نظر ڈال کر دیکھیں۔آپ کو بچپن کی وہی باتیں سب سے زیادہ پیاری لگیں گی جن میں آپ نے کچھ نہ کچھ ایسی بات کی تھی جس سے ماں خوش ہو گئی ، باپ خوش ہو گیا، بہن خوش ہوگئی یا کوئی غریب ہمسایہ خوش ہو گیا۔بسا اوقات ایک چھوٹا سا فعل ہے ایک غریب بھو کے کو روٹی کھلانا۔ایک بچہ جب روٹی کھلاتا ہے تو پھر دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اس کے چہرے پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔جب اس کی تکلیف مٹ رہی ہوتی ہے اس کے چہرے پہ ایک سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے تو ویسا ہی سکون بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ، ویسا ہی اطمینان بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، بچے کے دل میں پیدا ہو رہا ہوتا ہے۔جس پر احسان ہے وہ اس بات کو بھول بھی سکتا ہے روٹی کھائی، پیٹ بھرا اور بھول گیا لیکن جس نے کسی کا پیٹ بھر کر اس کے مزے کو دیکھا ہو وہ اس چیز کو کبھی نہیں بھول سکتا ، ساری عمر کے لئے ہمیشہ اس کا یہ ایک فعل اس کے لئے مزید نیکیاں پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔