خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 340 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 340

خطبات طاہر جلد 16 340 خطبہ جمعہ 16 رمئی 1997ء لکھتے ہیں کہ اس طرح ہم تو بغیر تیاری کے تھے، کوئی علم نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ہمیں وہ بات سکھا دی جس کے نتیجے میں پوچھنے والوں کے دل مطمئن ہوئے۔پس جماعت جرمنی کے بڑھتے ہوئے کام پر گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ نے ہی یہ کام سنبھالنے ہیں وہی ہمیشہ سنبھالتا چلا آیا ہے اور اس فکر کی ضرورت نہیں کہ اب ہم کیا کریں گے۔کچھ آپ میں کام کرنے والے پہلے سے بڑھ کر آگے آئیں گے، جو آگے آچکے ہیں اللہ ان کی تربیت فرمائے گا اور ان کو پہلے سے بہتر ان بڑھتے ہوئے کاموں کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے گا لیکن یہ کام تو اب پھیلنے ہی پھیلنے ہیں اور انہیں بڑھنا ہے۔اس خوف سے کہ ہم ان کو سنبھال سکیں گے کہ نہیں ، آپ نے اپنے قدم نہیں روکنے اور یہی میری نصیحت دنیا بھر کی جماعتوں کو ہے جو اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہیں کہ بعض دفعہ وہ منتظمین جو مختلف جماعتوں میں کاموں کے سر براہ ہیں حیران رہ جاتے ہیں کہ اب ہم کیا کریں گے اور آئندہ ہمارا کیا لائحہ عمل ہونا چاہئے۔کیا اپنے کام روک لیں تا کہ جو لوگ ہاتھ آئے ہیں ان کو سنبھال سکیں یا اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہیں۔یہ سوال ہے جو مختلف امراء اور مربیوں کے ذہنوں میں ابھر رہا ہے لیکن میں نے ان کو جو ترکیب بتائی، جو بات سمجھائی وہ جہاں فی الحقیقت پوری طرح عمل میں آئی ہے وہاں ان کے سارے مسئلے خدا تعالیٰ کے فضل سے حل ہوئے بلکہ بہت سی نئی باتیں ان کو ایسی سمجھ آئیں جن کی طرف پہلے خیال نہیں گیا تھا۔میں نے جماعتوں کو مثلاً افریقہ کی جماعتوں کو جہاں بہت تیزی سے جماعت پھیل رہی ہے، کئی ممالک ایسے ہیں جہاں اس وقت تین لاکھ کے لگ بھگ احمدی ہو چکے ہیں اور آئندہ ان کی توقع ہے کہ کم و بیش دو لاکھ بقیہ وقت میں اور مل سکتے ہیں۔تو جہاں پانچ پانچ لاکھ کی تربیت کی ذمہ داری ڈالی جارہی ہو وہاں آپ تصور کر سکتے ہیں کہ منتظمین کا کیا حال ہوگا جنہوں نے ان کو سنبھالنا ہے اور پھر آگے اور بھی قدم بڑھانا ہے۔حسن اتفاق یہ ہے کہ یہ سال مباہلے کا سال ہے اور اس مباہلے کے سال میں دشمن نے یہ چیلنج دیا تھا اور بڑی بڑی مساجد میں دعائیں کروائی گئیں، جرمنی میں بھی دعائیں کرائی گئیں کہ اے خدا یہ سال احمدیت کی ہلاکت کا سال ثابت ہو ، سارے مشن بند ہو جائیں، جو ترقی ہو رہی ہے وہ ساری قدم روک لے اور تو ایسا کر کے ان کے قدم واپس ہونے شروع ہو جائیں اور ہر جگہ سے احمدیت کی