خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 184
خطبات طاہر جلد 16 184 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا۔اب یہاں وقت تھوڑارہ گیا ہے باقی حصہ انشاء اللہ بعد میں بیان کروں گا، ایک اہم بات اس آیت کے تعلق میں بیان کرنے والی یہ ہے کہ آپ لغو سے منہ موڑیں گے تو خدا تعالیٰ کی باتوں میں دلچسپی ہوگی۔خدا تعالیٰ کی باتوں میں دلچسپی ہوگی تو لغو سے خود بخود دمنہ مڑنے لگیں گے اور یہ روز مرہ پہچان ہے کہ ہم عِبَادُ الرَّحْمٰن بننے کے قریب ہو رہے ہیں یا دور ہٹ رہے ہیں۔اس بات کو اچھی طرح پہلے باندھ لیں۔بعض لوگ ہیں جو نیکی کی باتیں ہو رہی ہوں ، درس ہو رہا ہو، خطبہ ہورہا ہو، ایسی باتیں ہوں تو ان کی آنکھوں سے کچھ روشنی بجھ سہی جاتی ہے۔وہ بیٹھتے تو ہیں اگر بیٹھیں مگر ہر بات کو غور سے سن نہیں رہے ہوتے طبعا دلچسپی نہیں ہوتی۔مگر ان کی مرضی کا ٹیلی ویژن کا پروگرام ہو تو پھر دیکھیں اچانک اندر سے ایک روشنی نکلتی ہے اور آنکھیں چپک جاتی ہیں ٹیلی ویژن کے ساتھ اور اگر کوئی بچہ شور ڈالے تو ( کہتے ہیں) ایں، ہیں ہیں، خبردار، چپ چپ ! وہ دیکھو وہ کیا کر رہا ہے، مزہ خراب کر دیا۔تو عِباد الرحمن اور جو دوسرے بندے ہیں کسی کے ان میں بڑا فرق ہے اور یہ علامتوں سے پہچانا جاتا ہے اور ہر انسان روز مرہ اپنی علامتوں کو دیکھتا ہے، جانتا ہے اور ان آیات کے ذریعے علامات جو اس کے اندر سے ظاہر ہو رہی ہیں وہ شناخت کر سکتا ہے اپنے آپ کو۔پس خدا تعالیٰ نے جو مشکل رستے دکھائے ہیں، بلند منزلیں قائم فرمائی ہیں ان کے ہر قدم پر راہنمائی فرمائی ہے۔ہر قدم پر جانچ، پہچان کے سائن بورڈ لگا دیئے ہیں تا کہ آپ کو بعد میں جا کر نہ پتا چلے کہ اوہو یہ کیا ہو گیا، میں کہاں جا نکلا۔ہر وقت، ہر لمحہ، ہر قدم آپ کو پتا ہو کہ میں کس سمت میں قدم اٹھا رہا تھا، کس سے دور جا رہا ہوں اور کس سے قریب جا رہا ہوں۔تو عِبَادُ الرَّحمن بننا مشکل تو ہے مگر خدا تعالیٰ نے اتنا تفصیل سے یہ مضمون بیان فرما دیا ہے کہ ان میں سے ایک ایک آیت جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے آیت کے حوالے سے وہ اپنی ذات میں بہت بڑا مضمون رکھتی ہے۔اگر اس کے اوپر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے تو ایک لمبا سلسلہ چاہئے ان باتوں کے بیان کا۔تو سر دست میں چونکہ وقت ختم ہو گیا یہیں اسی پر اکتفا کرتا ہوں انشاء اللہ آئندہ عِباد الرحمن والے مضمون کو ہی ہم پھر بیان کریں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ