خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 872
خطبات طاہر جلد 15 872 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء پیدا ہوتا ہے کہ مجاہدین بڑھے ہیں تو کہیں یہ کوئی رسمی طور پر چھ، چھ روپے لے کر تو نہیں بڑھائے گئے۔یہ حقیقی اضافہ جو ہے تب پتا چلے گا جب ان کے چندہ دہندگان کے چندوں کی اوسط دیکھیں گے۔اگر مجاہدین کی تعداد بڑھ رہی ہو اور اوسط گر رہی ہو تو مجاہدین کے لحاظ سے تو خوشی کی خبر ہے مگر اوسط کے لحاظ سے اندازہ ہوگا کہ تھوڑا تھوڑا دے کر خانہ پری کر کے دوست شامل ہوئے ہیں۔اس لئے ہم جب اعداد و شمار پر آتے ہیں ان کا موازنہ کرتے رہتے ہیں مختلف پہلوؤں سے۔گزشتہ سال ان کا فی کس قربانی کا معیار جب کہ چندہ دہندگان دو ہزار دوسو تھے فی کس قربانی کا معیار ناسی پاؤنڈ فی کس تھا امسال جبکہ چندہ دہندگان کی تعداد تین ہزار آٹھ سوانتالیس ہے فی کس قربانی کا معیار بیاسی پاؤنڈ ہو گیا ہے یعنی کم ہونے کی بجائے بڑھ گیا ہے تو یہ ایک حقیقی اضافہ ہے جس کے متعلق کسی پہلو سے بھی دیکھیں اس کو انسان عزت کی اور قدر کی نگاہ سے دیکھے گا۔اس اضافے کے لحاظ سے دوسرا جو ملک غیر معمولی طور پر قدر کے لائق ہے وہ پاکستان ہے۔پاکستان کی تحریک جدید کو میں نے چھیڑا تھا۔میں نے کہا خدا کے لئے کچھ شرم کرو، وقف جدید اتنی بعد میں آئی اور کہاں سے کہاں پہنچ گئی تم ابھی تک وہیں بیٹھے ہوئے ہو تو بہت انہوں نے پھر محنت کی ہے۔وکیل اعلیٰ صاحب نے اپنی خاص نگرانی میں سارے شعبوں کو حرکت دے دی اور انصار، خدام سے استفادے کئے تو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی فضل فرمایا پہلے ان کی قربانی تھی اعداد و شمار آگے ہیں اتنا کہ پچاسی لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے ان کا ایک کروڑ کے دائرے میں تھے اتنا مجھے یاد ہے۔اب خدا نے اتنا زیادہ ان کو آگے بڑھا دیا مگر مشکل یہ ہے کہ دوسرے آگے بڑھنے والے بھی تو تیز بڑھ رہے ہیں اس لئے ان کی پوزیشن اول نہیں آسکی پھر بھی۔ابھی تک جو دس جماعتیں ہیں ان میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے جرمنی نے کسی اور کو آگے نہیں بڑھنے دیا اور اگر چہ ان کا امسال کا اضافہ تھوڑا ہے مگر چونکہ پہلے ہی خدا کے فضل سے وہ بڑی ٹھوس قربانی اور محکم قربانی کر رہے ہیں جس میں تزلزل نہیں ہے تو جرمنی کی اس دفعہ جو پوزیشن ہے وصولی کی تین لاکھ بیالیس ہزار پاؤنڈ ہے۔امریکہ نمبر دو پر ہے تین لاکھ تیرہ ہزار اور امریکہ نے پاکستان کو ایک نوچ نیچے کر دیا ہے آگے ورنہ پہلے جرمنی کے بعد پاکستان آیا کرتا تھا۔تو ہے تو یہ گڑ بڑ والی بات لیکن مجبوری ہے نیکی کے کاموں میں دوڑ تو ہوتی ہے کچھ آگے بڑھیں گے ، کچھ پیچھے ہیں