خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 728 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 728

خطبات طاہر جلد 15 728 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء اس کا ایک قطعی ثبوت ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔فرمایا جتنے خدا کے بنے ہیں ان کو دیکھو وہ خدا کے لئے مر گئے تھے اور کوئی بھی ایسا نہیں رہا جسے مردہ حالت میں خدا نے چھوڑ دیا ہو اسی دنیا میں ان کو ایسی عزت ، ایسی زندگی کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ جو اس نئے دور کے ساتھ اپنے پرانے دور کا موازنہ کر کے دیکھیں تو ان کو اپنی جو خود قبول کی ہوئی موت ہے وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ایک حقیر قربانی دکھائی دے گی۔وہ اس لئے کہ جو پہلے کی زندگی تھی اس کی نعمتیں جو انہوں نے چھوڑی تھیں ان نعمتوں کے مقابل کچھ بھی نہیں جو خدا نے ان کو عطا کر دی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے تجربے سے یہی مضمون بیان فرماتے ہیں کہ: اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا میں خاک تھا اسی نے ثریا بنا دیا (در تشین (117) وہ کیا خاک تھی ، وہ قطرہ کیا تھا؟ وہ وہ قربانیاں تھیں وہ پہلے کی زندگی تھی جسے آپ نے خدا کی خاطر مٹی میں ملا دیا۔اسے خود اپنے ہاتھوں سے خدا کی راہ میں قربان کرتے ہوئے گویا دنیا کی زندگی کے ذرائع سے اپنا تعلق قطع کر لیا۔دنیا کی زندگی کے ذرائع میں دو ہی چیزیں ہیں پانی اور مٹی۔فرمایا کہ جو کچھ میں نے خدا کی راہ میں قربان کیا وہ پانی کا ایک قطرہ اور تھوڑی سی مٹی تھی اس کے سوا کوئی حیثیت نہیں تھی مگر : اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا میں خاک تھا اسی نے ثریا بنادیا اب دیکھیں کل عالم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر خدا نے کیسا بلند فرمایا ہے۔زمین کے کنارے گونج اٹھے ہیں اس نام سے اور یہ ذکر بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔وہ خاک کی مٹھی جو آپ کہتے ہیں میں تھا اس نے تو کل عالم بنا ہی بننا ہے۔کوئی دنیا کی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔وہ قطرہ جو آپ تھے جب اسے خدا کی راہ میں قربان کیا تو وہ ساری دنیا کے لئے زندگی بخش پانی بن رہا ہے اور بنتا چلا جائے گا۔پس یہ حقائق ہیں جو آپ کے سامنے رکھے جارہے ہیں کوئی فرضی قصے نہیں ہیں جن کی بناء پر آپ کو اصلاح احوال کی طرف متوجہ کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کو سمجھنے کی اور ان پر عمل پیرا ہونے کی اور ان سے استفادے کی ہمیں توفیق بخشے۔آمین