خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 699
خطبات طاہر جلد 15 699 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء صلاحیت پا جائے گی پھر بھی سب کچھ نہیں دیکھ سکے گی۔یہ فرق ہے عالم الغیب میں اور اس مومن میں جو اللہ کی نظر سے دیکھتا ہے۔جب سب کچھ ہو جائے اور انسان اپنی خدا داد صلاحیتوں کو حد کمال تک پہنچا دے پھر جو باقی حصہ ہے وہ بھی بے انتہا ہے اور وہاں تو کل شروع ہوتا ہے۔وہاں سے وہ مضمون شروع ہوتا ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تم سور ہے ہوتے ہو خدا تمہارے لئے جاگ رہا ہوتا ہے۔تم دشمن سے غافل ہوتے ہو خدا اس پر نظر رکھتا ہے۔تمہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کس چیز کی مجھے ضرورت ہے اللہ کو معلوم ہوتا ہے اور وہ ضرورتیں پوری کر رہا ہوتا ہے۔یہ جو تو کل والا مضمون ہے اس میں دعاؤں کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں مانگنے والے کو دیا جاتا ہے اور دعاؤں کی اس لئے ضرورت ہے کہ اگر وہ نہیں مانگے گا تو اپنی ذات پر تو کل ہے اس لئے اس کے بغیر چارہ نہیں ہے۔بعض لوگ کم نہی میں یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کو کیا منگوانے کا شوق ہے۔ہم نے تو کل کر دیا خدا اب سنبھال لے حالانکہ جو وہ تو کل ہے وہ نفس کا دھوکہ ہے۔اس تو کل کا مطلب ہے کہ ہم نے جو چیزیں پوری کر دیں اب لازماً سب کام ٹھیک ہونے چاہئیں اور بالآخر وہ اپنی ذات پر تو کل ہی بن جاتا ہے لیکن جہاں خطرات کا احساس ہو اور پتا ہو کہ سب چیزیں کافی نہیں ہیں وہاں کسی مددگار کی ضرورت پیش آتی ہے اور لازما دل سے دعائیں اٹھتی ہیں کہ اے ہمارے مددگار ، اے خدا ان ضرورتوں کو پورا کر دے جن پر ہماری نگاہ ہی نہیں ہے۔ان خامیوں کو دور کر دے جن پر ہماری نظر نہیں ہے اور پھر ہمارے ان کا موں کو سنبھال لے جو ہمارے بس میں نہیں ہیں۔تو یہ وہ مضمون ہے جس کی اس وقت جماعت کو سمجھنے کی بڑی گہری ضرورت ہے۔ہمارے کام پھیل رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور اتنے پھیل رہے ہیں کہ اگر اپنی طاقت کو دیکھیں تو ناممکن دکھائی دیتا ہے کہ ہم انہیں سنبھال لیں۔وہ ارتقائی دماغ جس کی میں بات کر رہا ہوں اس کو بھی تو وقت چاہئے اور جب ترقیات تیزی سے آگے بڑھ جائیں تو اس ارتقائی اجتماعی دماغ کے لئے جتنا وقت درکار ہے وہ ہی نہیں ملتا اور وہاں لازماً اللہ تعالیٰ کے براہ راست دخل کی ضرورت پیش آتی ہے۔یہ جو مضمون ہے اس پر غور کر کے جو جدید سائنس دان ہیں انہوں نے یہ راز معلوم کر لیا کہ جو Evolution کا وقت ہم نے دیکھا ہے وہ Evolution کے لئے کافی نہیں ہے یعنی حیرت انگیز دریافت انہوں نے کی ہے اور اب اس میں ہی وہ غرق ہوئے بیٹھے ہیں۔کہتے ہیں ہم نے جو حساب