خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 62

خطبات طاہر جلد 15 20 62 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء دینے کی طاقت رکھتے ہوں وہ کھانا دے دیں۔دوسرا معنی ہے وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ اور وہ لوگ جو روزہ رکھنے کی طاقت رمضان کے بعد بھی نہیں رکھتے ان کو چاہئے فِدْيَةٌ طَعَامُ مشکین کہ ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے دیں۔فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ پس جو کوئی بھی خیر کے معاملے میں تطوع کرے تو اس کے لئے بہتر ہے اور اگر تم روزے رکھو تو تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے کہ اس میں کیا فوائد ہیں اور یہ بہتر ہے اِن كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ کاش تم جانتے ، کاش تمہیں علم ہوتا یا اگر تمہیں علم ہوتا تو تم یہی نتیجہ نکالتے کہ روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے۔یہاں تطوع کا میں نے ترجمہ نہیں کیا فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا کیونکہ اس کے دو ترجمے رائج ہیں۔دو ترجمے کئے جاتے ہیں جو دونوں جائز ہیں اور عربی گرائمر دونوں کی اجازت دیتی ہے۔ایک ترجمہ جو زیادہ تر معروف ہے وہ یہ ہے کہ جو کوئی بھی بطور نفل نیکی کرے تطوع کے معنی ہیں نفلاً جہاں حکم نہ ہو بلکہ حکم کے بغیر ہی نیکی کی جائے۔وہ نفلی نیکی ، طوعی نیکی ،طوعی لفظ جو ہے وہ یہی تطوع والا لفظ ہی ہے۔یعنی دونوں ایک ہی روٹ سے نکلے ہوئے ہیں تو جو بھی کوئی نفلی نیکی کرے گا پس وہ اس کے لئے بہتر ہو گا۔اس ترجمے میں کچھ وقتیں ہیں وہ یہ کہ اس سے پہلے یہ گزرا ہے فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْعَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ جو بھی تم میں سے مریض ہو یا سفر پہ ہو وہ بعد کے ایام میں روزے رکھ لے۔پھر اگر یہ کہا جائے کہ پس جو کوئی نفلی طور پر نیکی کرے وہ اس کے لئے بہتر ہے تو اس سے اس طرف ذہن جاتا ہے کہ اگر چہ اجازت ہے کہ رمضان کے دوران بیماری کی حالت میں اور سفر کی حالت میں روزے نہ رکھے جائیں مگر رکھ لوتو بہتر ہے کیونکہ یہ ایک نفلی نیکی ہوگی لیکن اس میں یعنی ترجمہ تو یہ کیا جاتا ہے مگر اس میں ایک بڑی دقت یہ ہے کہ فرض کے وقت نفلی نیکی نہیں کی جاسکتی۔اگر فرض ادا ہو تو فرض ادا ہو گا فرض کے بدلے نفلی نیکی کا کوئی تصور نہیں ہے۔پس یہ ناممکن ہے کہ نفلی طور پر فرضی روزے رکھ لو۔اس لئے یہ ایک تضاد پیدا ہوجا تا معنی میں اور محل میں جو موقع ہے اس کے ساتھ یہ معنی ٹھیک نہیں بیٹھتا۔دوسرا معنی ہے فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرُ له جو کوئی اطاعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے نیکی کرے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے۔یعنی نیکی اطاعت ہی کا نام ہے کوئی اطاعت کی روح کو پیش نظر رکھے اور پھر نیکی کرے وہ نیکی ہے وہ اس کے لئے بہتر ہے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام