خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 42

خطبات طاہر جلد 15 42 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء ترجیح دی ہے کہ جس کے بارے میں قرآن اتارا گیا۔پہلے معنی کی رو سے یہ مطلب بنتا ہے کہ رمضان مبارک ہی میں قرآن اتارا گیا اور وہ لوگ جو جانتے ہیں احادیث کے مطالعہ سے یا سن کر بھی کہ قرآن کریم تو سارا سال اتارا گیا ہے اور ایک رمضان اور دوسرے رمضان کے درمیان آنحضرت ﷺ کی جی منقطع نہیں ہو جایا کرتی تھی بلکہ ہمیشہ جاری رہتی تھی ان کے لئے یہ دقت ہے کہ رمضان میں اتارا گیا“ کا ترجمہ کیسے کریں۔چونکہ ایک معنی فِیهِ الْقُرْآنُ کا یہ بھی بنتا ہے اس کے بارے میں تو انہوں نے اس ترجمہ کو ترجیح دی اور اس ترجمہ پر بھی بعض سوال اٹھتے ہیں کہ کیا قرآن کریم رمضان کے سوا اور مضمون پر بحث نہیں کرتا کیا تمام تر رمضان ہی کی باتیں ہورہی ہیں۔اگر ذرا غور سے ان دونوں پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو دونوں بالکل درست ہیں اور اعتراض بے محل ہیں۔چنانچہ بہت سے وہ علماء جنہوں نے پہلے ترجمہ پر زور دیا فِیهِ الْقُرْآنُ اس مہینے میں قرآن اتارا گیا وہ یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ اول قرآن کا آغاز رمضان المبارک سے ہوا ہے۔نمبر دو یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں آنحضرت ﷺ پر جبرائیل اتر کر تے تھے ، روزانہ اترتے تھے اور روزانہ اس وقت تک کا قرآن جو نازل ہو چکا تھا اس کی دہرائی کرواتے تھے۔تو لفظا یہ ترجمہ بھی درست ہے کہ پورا قرآن اس ایک مہینہ میں اتارا گیا کیونکہ اور کوئی مہینہ ایسا نہیں جس میں اس طرح وہ قرآن کا حصہ جو نازل ہو چکا تھا اس کی دہرائی کی جاتی تھی یہاں تک کہ جب مکمل ہو گیا تو آخری رمضان میں بلا شبہ پورے کا پورا قرآن ایک ہی مہینہ میں دہرایا گیا اور یہ دُہرانا چونکہ انسانی ذرائع سے نہیں تھا بلکہ جبرائیل علیہ السلام خود اتر تے تھے اللہ کے حکم سے اور آنحضرت ﷺ کو قرآن یاد کرواتے تھے، سنتے تھے۔اب تفصیل تو نہیں آتی کہ جہاں کوئی سہو ہوگئی ہوگی وہاں درستی کرواتے ہوں گے۔مگر مضمون یہی ہے چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا تھا کہ اپنی زبان کو جلدی حرکت نہ دے ہمارا ذمہ ہے کہ ہم تجھے قرآن یاد کروائیں اور اس کی حفاظت کریں اس لئے تجھے بالکل بے فکر ہو جانا چاہئے نا ممکن ہے کہ تیری یادداشت کی غلطی کے نتیجہ میں قرآن دنیا کے سامنے غلط پیش کیا جائے پھر یہ جو حفاظت فرمائی گئی تھی اس کا یہ بھی ایک طریق تھا۔اس حفاظت کے وعدے کو اس طرح پورا فرمایا گیا۔پس اس پہلو سے جب ہم دیکھتے ہیں کہ تراویح میں بہت سی جگہوں پر سارا قرآن دہرایا جاتا ہے تو غالبا اس کی سند یہیں سے ملتی ہے ورنہ کوئی ایسی سند نہیں کہ ضرور قرآن کریم رمضان مبارک میں تہجد