خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 460
خطبات طاہر جلد 15 460 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء کرنے والا امیر بھی بھیجیں تو اس کے ساتھ وہی بد تمیزی کا سلوک ہوگا بلکہ بعض دفعہ نسبتا سخت امیر کے سامنے یہ لوگ جھک جاتے ہیں اور بعض دفعہ اس نیت سے سخت امیر مقرر کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ لوگ نیکی اور شفقت اور رحمت کی زبان سے بالکل نابلد ہو جاتے ہیں۔ان کو پتا ہی نہیں یہ زبان ہوتی کیا ہے۔وہ دوسری زبان کسی حد تک سمجھتے ہیں۔کوئی مضبوط امیر ہو جو بد تمیزیاں برداشت نہ کرے اور آگے سے اسی طرح دوٹوک جواب دے سکے تو وہ ماحول تو نہیں ہے جو اسلامی ماحول ہے اس کو تو میں ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا۔مگر بیماروں کی دنیا میں صحت مند قانون چلا بھی تو نہیں کرتے۔وہاں پھر یہ مضمون صادق آتا ہے جیسی روح ویسے فرشتے۔روح ہی بد ہے تو فرشتے بھی تو ویسے ہی سخت گیر ہوں گے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو جہنم کے تعلق میں بیان فرمایا ہے۔کہتا ہے جہنم کے فرشتے بھی بڑے سخت گیر ہیں۔کوئی رحم نہیں جانتے۔وہ جہنمی چیختے چلاتے رہتے ہیں کہ اے جہنم کے داروغے ہمارے لئے خدا سے کچھ مانگ۔وہ کہتا ہے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ان کی سخت گیری جو ہے وہ اٹل ہے اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔تو جیسی روح ویسے فرشتے کا مضمون محض محاورہ نہیں۔قرآن سے ثابت ہے کہ جیسے جیسے لوگ ہوں ویسے ویسے ہی فرشتے ان پر مسلط کئے جاتے ہیں۔چنانچہ مرتے وقت کے فرشتے آتے ہیں۔جو نیک لوگوں کے فرشتے ہیں وہ ان کے لئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں ان کو محبت اور پیار سے تیار کرتے ہیں اپنے رب کے حضور حاضر ہونے کے لئے اور خوشخبریاں دیتے ہیں کہ تم ایک تکلیف کے مقام سے ایک آرام کے مقام کی طرف منتقل ہور ہے ہو اور جو سخت گیر فرشتے ہیں وہ ان لوگوں پر آتے ہیں جو ظالم ہیں۔ساری عمر انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کئے ہوں۔ان کو کہتے ہیں خود اپنی جانیں نکال کر باہر لاؤ۔اب اس قسم کا سخت منظر ہے کہ اس کو قرآن کریم میں پڑھتے ہوئے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔تو اس لئے یہ کہنا کہ بعض دفعہ لوگ سخت گیر مزاج کے مستحق ہو جاتے ہیں یہ قرآنی مضامین سے مختلف نہیں۔مگر اسے مثالی ماحول بہر حال نہیں کہا جا سکتا۔مثالی ماحول تو وہی ہے جو آنحضرت ﷺ سے ثابت ہو اور آپ نے اپنی تمام زندگی میں اطاعت کو قائم کرنے میں جو نمونے دکھائے ہیں ان نمونوں کی پیروی کر رہا ہو۔اگر سو فیصدی نہیں تو کوشش ضرور ہو کہ ویسے نمونے پیدا ہوں۔جہاں یہ صورت حال ہو وہاں حضرت مسیح موعود کی جماعت میں یہ خوبی ہے کہ وہ پھر اپنی جان بھی ایسے امیروں پہ نچھاور کرنے لگتی ہے۔صدر ہو خدام الاحمدیہ -