خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 964
خطبات طاہر جلد 14 964 خطبہ جمعہ 22 دسمبر 1995ء صلى الله تو نور میں زندہ کرنے کی صلاحیت ہے اس لئے کہ یہ نور مصطفوی ہے۔اگر یہ نور مصطفوی نہیں تو اس نور کے کوئی معنی نہیں ہیں ، بے حقیقت ہے اور نورِ مصطفوی محمد رسول اللہ ﷺ ہی سے تو حاصل کیا جائے گا۔یہ وہی نور ہے جس کا قرآن کریم میں دوسری جگہ ذکر آچکا ہے کہ وہ تنہا روشن ہوا تھا ، خدا کی نمائندگی میں وہ ایک تھا جس کے اندر اللہ کا نور چمکا ہے اور دیکھتے دیکھتے دوسرے گھروں میں، ایسے گھروں میں وہ نور روشن ہو گیا جن کے متعلق خدا نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ ان کے مرتبے اور مقام کو ہمیشہ بڑھاتا رہے گا۔پس آج وہ دور پھر آیا ہے، آج فتح اسی نور کی ہوگی جس نور کی فتح کل ہم دیکھ چکے ہیں۔جس نور میں یہ صلاحیت تھی کہ ایک سے دو اور دو سے چار ہوتا چلا جائے۔وہ صلاحیت آج بھی زندہ ہے کیونکہ وہ نور زندہ ہے۔پس اسے اپنا لوتو تمہاری تبلیغ کی تمام مشکلات رستے سے ہٹ جائیں گی۔ایک خاتون کے متعلق کل ہی خط ملا کہ بالکل ان پڑھ ہیں، کچھ نہیں آتا ان کو مگر احمدیت کی صداقت سمجھ کر جب سے قبول کیا ہے وہ عاشق ہو چکی ہیں اور سارے شہر میں انہوں نے تبلیغ شروع کر رکھی ہے۔ایسی ہی ایک بوسنین خاتون سے بھی امیر صاحب جرمنی نے گزشتہ دورے پر تعارف کروایا تھا۔اب بھی ان کے متعلق یہی اطلاعیں مل رہی ہیں کہ وہ دن رات فدا ہیں احمدیت اور اسلام کے نور پر اور اس نور کو آگے پھیلاتی چلی جارہی ہیں۔پس آپ شمعوں سے شمعیں روشن کریں۔یہ راز ہے جو قرآن نے ہمیں سمجھا دیا ہے۔نام کے آدمی اگر آپ کھینچ کر لے آئیں جن میں نور بصیرت ہی نہ ہو وہ شمعیں دیکھ کر اس کے عاشق نہ ہوئے ہوں بلکہ ان کا ہاتھ پکڑ کر آپ شمع کے دامن میں لا کھڑا کریں تو آپ کے ہونے کے باوجودان کا ہمیشہ آپ کا رہنا ہر گز قابل اعتماد نہیں۔کوئی ضمانت نہیں ہے کہ وہ آپ ہی کے رہیں گے۔کوئی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اس شمع کے دامن سے نکال کر دور لے جائے تو وہ ساتھ چلے جائیں گے۔ایک عاشق کو دور نہیں کیا جاسکتا۔جس نے نور دیکھ لیا ہو اور پھر اس سے حصہ پالیا ہو وہ خود بھی چمک اٹھا ہو وہ تو دوسروں کو بھی کھینچتا ہے۔پس یہ مضمون ہے تبلیغ حقہ کا جو قرآن نے ہمیں سمجھایا اور جس کا تعلق حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت سے خصوصیت کے ساتھ باندھا ہے۔فرمایا اس راز کو سمجھ جاؤ تم ضرور غالب آؤ گے کیونکہ خدا کا فیصلہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا نور تمام دنیا پر غالب آجائے۔پس اس پہلو سے آپ تبلیغ کی طرف توجہ کریں۔