خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 817 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 817

خطبات طاہر جلد 14 817 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء پر غور کرتے ہوئے خدا کی طرف پہنچنے کا مزہ چکھ لے تو پھر وہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو یہ آیت کریمہ پیش کر رہی ہے۔الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ نہ دن کو بھولتے ہیں نہ رات کو ، نہ کھڑے ہوئے ، نہ بیٹھے ہوئے۔وہ تو کروٹیں بدلتے ہیں تو تب بھی ان کو خدا یاد آتا ہے اور یہ لامتناہی ذکر کا سفر ہے جو کائنات پر غور کرنے کے نتیجے میں ضرور شروع ہوگا اگر لِأُولى الْأَلْبَابِ ہو گے۔تو جب تک کائنات پر غور نہیں کرتے نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کوکس طرح سمجھ سکتے ہیں۔اور نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ کو صرف اسی حد تک سمجھتے ہیں یا سمجھ سکتے ہیں جس حد تک کائنات کا شعور حاصل کرنے کی خدا تعالیٰ نے صلاحیت بخشی ہے اور پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ سب پردہ ہی تھا اور وجہ اول ان پردوں سے پرے ہے۔جو نور ہم دیکھتے ہیں، جو کائنات کی روشنائی ہے جو کائنات کے اندر متحرک روح ہے وہ خدا نہیں ہے۔اس میں خدا کی صفات جلوہ گر ہیں اور نور اللہ اس سے پرے لطیف تر کوئی چیز ہے جو تموج سے بھی پاک ہے، جو ہر قسم کی فناء کے تقاضوں سے بالا ہے۔وہ ازلی ہے ، وہ ابدی ہے۔وقت کا اس پر کوئی دخل نہیں۔وہ وقت کا خالق ہے اس کو کسی نے خلق نہیں کیا۔یہ وہ نور ہے جس کا ذکر میں انشاء اللہ اب آئندہ خطبے میں قرآن کریم کی بعض آیات کے حوالے سے، اسی آیت کے حوالے سے بھی اور دوسری آیات کے حوالے سے بھی اور احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارتوں سے مدد لے کر آپ کے سامنے پیش کروں گا۔