خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 785
خطبات طاہر جلد 14 785 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء Dimension سے دوسری میں جائیں گی تو دو کی بجائے چار دکھائی دیں گی دوسری سے تیسری میں جائیں گی تو چار کی بجائے آٹھ بھی دکھائی دے سکتی ہیں اور آٹھ کی بجائے سولہ بھی دکھائی دے سکتی ہیں لیکن آغاز کا جو ذکر ہے اس میں آٹھ کا وعدہ فرمایا گیا ہے لیکن يَزِيدُ میں جو زائد کا وعدہ فرمایا گیا ہے اس میں حد بندی نہیں فرمائی۔وہاں یہ نہیں کہا کہ میں آٹھ پر جا کر ٹھہر جاؤں گا یا سولہ یا چھتیس پر جا کے ٹھہر جاؤں گا اس میں ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کے امکانات کھول دیئے گئے ہیں۔آگے جو بھی ہوگا ہم چونکہ ابھی تک آٹھ کو بھی پوری طرح سمجھ نہیں سکتے اس لئے اگلے مخمصے میں ہمیں ڈالا ہی نہیں گیا۔اگلے مخمصے میں جب وہ منزل آئے گی خدا خود سمجھائے گا کہ وہ صفات میں کیا نئے رنگ پیدا فرماتا ہے اور کس طرح وہ صفات بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔پس یہ مضمون ہے چار اور آٹھ والا۔اب میں آپ کے سامنے یہ عرض کروں گا کہ میں نے کہا تھا کہ وہ جو آیت کریمہ میں نے حضرت مصلح موعودؓ کے حوالے سے پہلے بھی پیش کی تھی۔میں نے کہا تھا یہاں اول طور پر محمد رسول الله الله جو جسم ذکر الہی تھے وَالَّذِينَ مَعَةَ (الفتح: 30) وہ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے جو محمد رسول اللہ ﷺ کے نور کو جو ذکر کا نور تھا اپنے گھروں میں بھی لے گئے ، اپنے سینوں میں بھی انہوں نے داخل کر لیا اور سینوں میں سمیٹے ہوئے جس گھر میں گئے وہاں نور کی اور شمعیں پھوٹ پڑیں اور ایک نہیں رہی بلکہ زیادہ ہو گئے۔پس قیامت کے دن جو ذکر ہے کہ فرشتے تو اردگرد ہوں گے اور ان کا لفظ ہے وَتَرَى الْمَلَبِكَةَ حَافِينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ (الزمر: 76) کہ فرشتے عرش کے ارد گرد، چاروں طرف حافین ہوں گے یعنی تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے۔یہ جو مضمون ہے اس پر ایک حدیث نبوی ﷺے پوری طرح روشنی ڈال رہی ہے اور لفظ حف ہی کا استعمال فرما کر آپ نے ہمیں سمجھا دیا کہ فرشتے کون ہیں اور وہ کون سا عرش ہے جس کے گرد یہ حاف ہوا کرتے ہیں ، جس کے گرد یہ ہجوم در ہجوم تہہ بہ تہ ا کٹھے ہو جاتے ہیں۔صلى الله آنحضرت ﷺ نے فرمایا : عن ابي هريرة عن النبی الله قال ان الله تبارک و تعالى ملائكة سيارة فضلا يتبعون مجالس الذكر فاذا وجدو امجلسا فيه ذكره قعدوا معهم۔یعنی ایسے فرشتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں جو صاحب فضیلت ہیں،