خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 742
خطبات طاہر جلد 14 742 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء اس میں داخل کر لیں تو ہوسکتا ہے کئی لوگوں کی الجھن دور ہو جائے۔اس لئے میں نے ان آیات کا انتخاب آج کے خطبہ کے لئے کیا ہے مگر اس سے پہلے یہ دواعلانات ہیں۔ایک تو مجلس انصار اللہ کینیڈا کا دسواں سالانہ اجتماع کل 7 اکتوبر سے شروع ہو رہا ہے جو تین دن جاری رہے گا اور 9 اکتوبر کو بروز سوموار یہ اجتماع ختم ہو گا۔دوسرے ناروے کا جلسہ سالانہ ہو رہا ہے اور چونکہ ان کا اصرار تھا کہ میں خود وہاں پہنچ کر اس جلسے میں شمولیت اختیار کروں اور یہاں کی مصروفیات کے باعث مجھے مجبوراً اس پیشکش کو رد کرنا پڑا یعنی اس کو قبول نہ کر سکا اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ آج اسے خطبہ میں ان کا بھی کچھ ذکر ہو، ان سے بھی کچھ مخاطب ہوں۔جہاں تک انصار اللہ کینیڈا کا تعلق ہے یہ انصار اللہ کینیڈا کی مجلس، کینیڈا کی عمومی تصویر سے کچھ مختلف نہیں ہے۔کینیڈا ایک قسم کے تضادات کا مجموعہ ہے۔بعض پہلوؤں سے خدا کے فضل سے نمایاں خوبیاں بھی موجود ہیں اور بعض پہلوؤں سے کچھ ایسی کمزوریاں ہیں جو احمدیت کے آج کل کے موسم کے شایان شان نہیں ہیں۔اگر خزاں کے موسم میں پتے زرد ہوں تو ہر درخت کے پتے زرد ہوتے ہیں ہاں اگر کچھ اجنبی بات معلوم ہوتی ہے تو یہ کہ کوئی درخت سرسبز بھی ہوتے ہیں اور بہار میں اگر درختوں کے پتے زرد ہو جائیں تو یہ اجنبی بات ہے۔جماعت کینیڈا مخلص ہے، مالی قربانی میں بھی پیش پیش ہے، عموماً ان کے اندر اصلاح کا جذبہ بھی ہے، اجتماعی کاموں میں شوق سے حصہ لیتے ہیں مگر تبلیغ کی طرف نہیں آتے۔ایک آدھ آدمی کے سپر د کام کیا اس سے بھی اس رنگ میں کوتاہیاں ہو گئیں کہ اس کے بنائے ہوئے آدمی جماعت کو بالعموم قبول نہ رہے کچھ بنیادی خامیاں دکھائی دی گئیں اور اس کے بعد معاملہ ختم حالانکہ دنیا کی سب جماعتوں میں تبلیغ کے لحاظ سے اتنی بیداری ہے کہ وہ زمینیں جو بالکل بنجر دکھائی دیتی تھیں ان میں بھی نشو ونما شروع ہوگئی ہے۔اس لئے میں نے کہا کہ بہار کا موسم ہے اور اس موسم میں خزاں اجنبی دکھائی دیتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی توقعات کے بالکل برعکس ہے۔آپ تو فرماتے ہیں: بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں ( در شین : 50) تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ شعر آج تمام دنیا کی جماعتوں کی تصویر بنا ہوا