خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 403
خطبات طاہر جلد 14 403 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء جو کوشش کرتے ہیں وہ ان کو خدا کا محتاج بنائے رکھتا ہے لیکن اگر یہ حرص ہو کہ ان کے آنے سے ہمیں فائدہ پہنچے گا تو یہ خوست ہے یہ رحمت نہیں۔اس لئے یہ کہنا کہ رحمت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان سے چشم پوشی کی جائے۔ان کو سزا نہ ملے۔نظام جماعت عمل میں نہ آئے یعنی سرگرم عمل نہ ہو اور ان کو اس لئے چھوڑ دے کہ یہ لوگ صاحب رسوخ ہیں، صاحب دولت ہیں صاحب عظمت ہیں، یہ شرک ہے، یہ رحمت نہیں۔رحمت کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کی کوئی بھی احتیاج نہیں ہے۔پھر بھی آپ اس کا بھلا چاہتے ہیں اور یہ رحمت جو ہے یہ تو آفرنیش سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔جو آغاز ہوا ہے کائنات کا اس سے پہلے ہی خدا رحمان تھا اور جو بلو پرنٹ ہے کا ئنات کی تخلیق کا اس میں رحمانیت جلوہ گر ہوئی ہے اس وقت سوائے رحمانیت کے کوئی اور صفت کارفرما تھی تو اس جہان میں نہیں اور دوسرے جہانوں میں ہوگی۔یعنی یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ خدا کی تمام صفات کسی وقت معطل تھیں لیکن جلوہ گر تھیں تو دوسرے جہانوں میں تھیں۔جو جہان پیدا نہیں ہوئے اس میں اگر جلوہ گر ہوئی ہیں تو رحمانیت کے تابع یعنی رحمانیت کے تابع ایسا نقشہ تشکیل دیا گیا جس کا فیض آئندہ آنے والی مخلوقات کو پہنچانا تھا تو سب صفات کام کر رہی ہیں لیکن رحمانیت کے تابع۔براہ راست کسی صفت کے ساتھ تعلق نہیں رکھ رہیں اور یہی معنی ہیں کہ رحمانیت تمام صفات پر غالب ہے۔تو اللہ تعالیٰ جماعت کو توفیق عطا فرمائے کہ ان ذمہ داریوں کو سمجھے۔میں پھر یہ یقین دلاتا ہوں نظام جماعت کو کہ اگر وہ غنی ہیں اور رحیم بھی رہیں رحمان بھی رہیں تو ان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔بے دھڑک نظام جماعت پر عمل کریں ایک ادنی بھی غیر اللہ کا خوف نہ رکھیں۔کوئی بڑا جدا ہو کر آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکا۔لیکن آپ اگر بڑے بنیں گے تو اپنے آپ کو نقصان پہنچائیں گے اس لئے ان کے جواب میں رحمت اور انکسار کا تعلق قائم رکھیں باقی باتیں خدا پر چھوڑ دیں۔اللہ تعالیٰ نظام جماعت کو سلام کے دائرے میں اس کے سائے میں ، اس طرح داخل فرمادے کہ نظام جماعت کا ایک ذرہ بھی سلام کی حفاظت سے باہر نہ رہے۔آمین